ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ٹیلی ویژن پر بحثیں دوسری چیز سے زیادہ آلودگی پھیلا رہی ہیں: سپریم کورٹ

ٹیلی ویژن پر بحثیں دوسری چیز سے زیادہ آلودگی پھیلا رہی ہیں: سپریم کورٹ

Wed, 17 Nov 2021 23:59:35    S.O. News Service

نئی دہلی،17؍نومبر(آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے بدھ کے روزکہاہے کہ ٹیلی ویژن نیوز چینلز پر ہونے والی گفتگوکسی بھی چیز سے زیادہ آلودہ کر رہی ہے اور عدالت کی سماعت کے دوران دیے گئے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کراستعمال کیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت کی تین رکنی بنچ نے کہاہے کہ ہر ایک کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے اور ان دلائل کے دوران دیئے گئے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔بنچ نے کہاہے کہ آپ (درخواست گزار) کسی مسئلے کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، ہم سے تبصرہ کرنے کو کہیں اور پھر اسے متنازعہ بنائیں، اس کے بعد صرف الزام ہے۔

بنچ نے کہاہے کہ ٹیلی ویژن پر بحثیں کسی بھی چیز سے زیادہ آلودگی کا باعث بن رہی ہیں۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور مسئلہ کیا ہے۔ بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے۔ ہم مدد نہیں کر سکتے اور ہم اسے کنٹرول نہیں کر سکتے۔ ہم حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے یہ ریمارکس دہلی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں فضائی آلودگی سے متعلق ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دیاہے۔سپریم کورٹ نے یہ زبانی مشاہدہ دہلی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی کی عرضی پر دیاہے کہ پرالی جلانا فضائی آلودگی کی ایک وجہ ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس معاملے پر مرکز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیاہے۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ٹیلی ویژن پر ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے (مہتا) نے ہوا کی آلودگی میں پرالی جلانے کی شراکت پر سپریم کورٹ کو گمراہ کیا ہے۔مہتا نے کہاہے کہ میں نے اپنے خلاف ٹی وی میڈیا پر کچھ غیر ذمہ دارانہ اور ناگوار بیانات دیکھے ہیں کہ میں نے پرالی جلانے کے سوال پر عدالت کو یہ دکھا کر گمراہ کیا ہے کہ اس کا حصہ صرف 4 سے 7 فیصد ہے۔ مجھے واضح کرنے دیں۔تاہم سپریم کورٹ نے کہاہے کہ ہمیں بالکل بھی گمراہ نہیں کیا گیا ۔ آپ نے 10 فیصد کہا لیکن حلف نامے میں بتایا گیا کہ یہ 30 سے 40 فیصد ہے۔

اس طرح کی تنقید اس وقت ہوتی ہے جب ہم عوامی عہدے پر ہوتے ہیں۔ ہم صاف ہیں، ہمارا ضمیر صاف ہے، یہ سب بھول جائیں۔ ایسی تنقیدیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہمارا ضمیر صاف ہے اور ہم معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں۔یہ درخواست ماحولیاتی کارکن آدتیہ دوبے اور قانون کے طالب علم امان بنکا نے دائر کی ہے، جنہوں نے چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کو مفت پرالی تلف کرنے والی مشینیں فراہم کرنے کی ہدایت مانگی ہے۔


Share: