بنگلورو،6؍فروری(ایس او نیوز)ریاست بھر میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے یونٹوں کی خریداری میں ہوئی مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ کے لئے مشترکہ ایوان کمیٹی قائم کی جائے گی۔ یہ اعلان ریاستی وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج ایشورپا نے کیا۔ ریاستی لیجس لیٹو کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران بی جے پی رکن رگھوناتھ ولیاپورے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایڈی یورپانے اسمبلی میں اس معاملہ میں اپنے طورپر اعلان کیا ہے کہ ان مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ کے لئے مشترکہ ایوان کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے جن جن اضلاع میں پانی کی یونٹوں کے قیام میں بے قاعدگی ہوئی ہے ان کی نشاندہی کرنے کے بعد اس کے لئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے مشترکہ ایوان کمیٹی کا قیام جلد ہی کیا جائے گا۔ ایشور پا نے کہا کہ اس کمیٹی میں ایوان بالا کے کن ممبران کو شامل کیا جائے گا اس کے بارے میں جلد فیصلہ ہو گا۔
برقی بسوں کی خریداری نہیں: نائب وزیر اعلی اور وزیر ٹرانسپورٹ لکشمن ساودی نے کونسل میں ڈاکٹر بھارتی شیٹی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے برقی بسوں کی خریداری کرنے کی کوئی تجویز نہیں۔انہوں نے کہا کہ تجرباتی طور پر 300بسوں کی خریداری کے لئے ٹینڈر ضرور طلب کیا گیا ہے۔ اب تک اس ٹینڈر کا عمل چار بار کیا گیا ہے۔ لیکن ٹینڈر س میں جو قیمت درج ہوئی وہ کافی زیادہ ہونے کے سبب اب تک ان میں سے کسی کو منظور نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پانچویں بار ٹینڈر اس بنیاد پر طلب کیا گیا ہے کہ بسیں نجی ملکیت کی ہوں گی اور ان کو دوڑانے پر حکومت کی طرف سے متعلقہ کمپنی کو فی کلو میٹر 48تا50روپے ادا کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان برقی بسوں کو دوڑانے سے جو آمدنی ہو گی اس کا استعمال کرکے حکومت اپنے بسوں کی خریداری کرے گی۔
یونیفارمس کی فراہمی:ریاستی وزیر برائے پارچہ جات شری منت پاٹل نے ایوان بالا کو بتایا کہ اسکولوں کے بچوں کو جو یونیفارمس فراہم کئے جارہے ہیں ان کے لئے بیرون ریاستوں کے ملوں سے کپڑا نہ خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کورونا کے سبب ریاست کے بنکروں اور کپڑا ملوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لئے ریاستی حکومت نے طے کیا ہے کہ ان ملوں اور بنکروں سے کپڑا خریدا جائے گا اور بیرون ملوں سے کوئی خریداری نہیں کی ائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تامل ناڈدو، مہاراشٹرا، گجرات اور دیگرریاستوں سے یونیفارم کا کپڑا طلب کیا جاتا لیکن اب اس سلسلہ کو منقطع کر کے حکومت نے مقامی ملوں سے ہی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے