نئی دہلی، 05 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ملازمت کے مسئلے پر وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے دیاگیا بیان اب پارلیمنٹ تک پہنچ گیاہے۔پیر کے روز بھارتی جنتا پارٹی کے قومی صدر اور ایم پی امت شاہ نے راجیہ سبھا میں اپنی پہلی تقریر کی۔ اس دوران انہوں نے روزگار کے بارے میں پی ایم مودی کے بیان کی حمایت کی اور کانگریس کو مذاق نہیں بنانے کی نصیحت دی۔انہوں نے بے روزگاری کاساراٹھیکراکانگریس پرپھوڑدیاحالانکہ بی جے پی نے ہرسال روزگاردینے کاوعدہ کیاتھا،اس پرکوئی جواب نہیں دے رہاہے۔دراصل حال میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب مودی سے روزگار کے پیداکرنے کے بارے میں پوچھاگیا تھا۔جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص پکوڑابیچ کر 200 روپے کماتا ہے تو اسے بھی ایک روزگارہی کہاجائے گا۔ وزیراعظم کے اس بیان پر حزب اختلاف کی جماعتیں مسلسل تبصرہ کر رہی ہیں۔ کانگریس لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بھی اس پر تبصرہ کیاتھا۔پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر کے دوران امت شاہ نے چدمبرم کے بیان کا ذکر کیا اور کہا کہ پکوڑابناناکوئی شرم کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پکوڑابنانا نہیں اس کاموازنہ بھکاری کے ساتھ کرناشرم کی بات ہے۔امت شاہ نے مزید کہا کہ اگر کوئی پکوڑا بیچتا ہے اور اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے تو اس کے بچے بعد میں کچھ بن سکیں گے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کابھی حوالہ دیااور کہا کہ جیسے ایک چائے بیچنے والے کابیٹا ملک ملک کا وزیراعظم بن گیا ہے، ویسے پکوڑے بیچنے والے کابیٹابھی آگے جاکرکچھ بن سکتاہے۔حالانکہ اپنے خطاب میں امت شاہ نے اعتراف کیا کہ ملک میں بیروزگاری کا مسئلہ ہے لیکن اس کے لئے انہوں نے کانگریس حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت میں خدمت کرنے کے لئے کم موقع ملا ہے اورجو ہماری پارٹی کی حکومت نے کیا ہے وہ گزشتہ 60 سالوں میں نہیں ہوا ہے۔