نئی دہلی، 29 جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) گؤ اسمگلنگ کے الزام میں ہجومی تشدد کے شکار ہوئے پہلو خان کا معاملہ 2 سال بعد پھر سے سرخیوں میں ہے۔پہلو خان کی ہجومی تشددمیں موت اپریل 2017 میں ہوئی تھی اور اب راجستھان پولیس نے پہلوکے خلاف ہی چارج شیٹ دائر کر دی ہے جس کے بعد یہ معاملہ فوری طور پر سیاسی گلیاروں میں چرچے کی وجہ بن گیا ہے۔
ممبر آف پارلیمنٹ اوراے آئی ایم چیف اسدالدین اویسی نے مقتول پہلو خان کے خلاف چارج شیٹ دائر کئے جانے پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ راجستھان کے مسلمانوں کو کم ازکم اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اقتدار میں آنے پر کانگریس بھی بی جے پی جیسی ہی ہو جاتی ہے، لہٰذا اان لوگوں اور ان اداروں کی مخالفت کی جانی چاہیے جو کانگریس پارٹی کے لیے کام کرتے ہیں ۔ اویسی نے کہا کہ 70 سال بہت ہوتے ہیں اب براہ مہربانی تبدیل ہو جائیے اور اپنا سیاسی پلیٹ فارم بدل دیجئے۔
بتا دیں کہ ہریانہ کے رہنے والے پہلو خان اور اس کے بیٹے پر راجستھان کے الور پر مبینہ گورکشکوں نے حملہ کر دیا تھا۔الزام تھا کہ پہلو خان گائے لے کر گزر رہا تھا جس کے دوران اس پر حملہ کیا گیا تھا اور انہیں جان سے ماردیا گیا تھا۔ اس معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ایک ایف آئی آر پہلو خان پر حملہ کرنے والوں کے خلاف درج کی گئی تھی، جبکہ دوسری ایف آئی آر پہلو خان اور اس کے بیٹے کے خلاف درج ہوئی تھی۔