ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / پی یو سی دوم کے نتائج کا اعلان :ریاستی سطح پر ساحلی پٹی کے تینوں اضلاع کو ملا بالترتیب اول، دوم اور سوم مقام

پی یو سی دوم کے نتائج کا اعلان :ریاستی سطح پر ساحلی پٹی کے تینوں اضلاع کو ملا بالترتیب اول، دوم اور سوم مقام

Thu, 11 May 2017 18:14:35    S.O. News Service

بھٹکل:11/مئی (ایس اؤنیوز) سال 2016-2017کے پی یو سی دوم کے نتائج کا ریاستی وزیر برائے ثانوی تعلیم تنویر سیٹھ نے اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی سطح پر کل نتائج کی شرح 52.38فی صد ریکارڈ کی گئی ہے ، جب کہ گذشتہ سال کے نتائج 57.20فی صدسے موازنہ کریں تو امسال نتائج میں 5 فی صدکمی واقع ہوئی ہے۔ شعبہ سائنس میں 60.71فی صد، کامرس 60.09فی صد اور آرٹس میں صرف 35.05فی صد نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ وہیں بڑی تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ ریاست میں 35کالجوں کا رزلٹ صفر رہاہے۔

ضلعی سطح کے نتائج کی بات کریں توساحلی پٹی کے تینوں اضلاع اُڈپی، دکشن کنڑا، اترکنڑا نے بالترتیب پہلا، دوسرا اور تیسرا مقام پایا ہے۔سال 2016میں ریاستی سطح پر90.15فی صد کے ساتھ دوسرے نمبر رہنےوالے اُڈپی ضلع نے اس بار 90.01فی صد کے ساتھ پوری ریاست میں اول مقام حاصل کیا ہے ، گذشتہ سال 90.48فی صد کے ساتھ پہلامقام حاصل کرنے والا دکشن کنڑا ضلع امسال 89.92فی صد کےساتھ دوسرے مقام پر ہے تو اترکنڑا ضلع کو تیسرا مقام حاصل ہواہے، اترکنڑا ضلع سال 2016میں 76.44فی صدی نتائج کے ساتھ چوتھے مقام پر تھا اب کی بار 71.99فی صد نتائج کی بنا پر تیسرے مقام پر ہے۔ کرناٹکا کے نقشہ میں سب سے اوپر والا ضلع بیدر گذشتہ سال کی طرح امسال بھی 42.05فی صد کے ساتھ سب سے نچلے نمبر پر ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق شعبہ سائنس میں دوطالبات نے 600نمبرات میں سے 596نمبرات حاصل کرتے ہوئے ریاست میں ٹاپ کیاہے۔ اُڈپی ضلع ،کنداپور تعلقہ کے گنگولی مقام کی سرسوتی ودیالیا پی یو کالج کی طالبہ رادھیکا ایم پائی اور منگلورو ایکسپرٹ کالج کی سرجنانے 596نمبرا ت کے ساتھ ریاست بھر میں اول مقام حاصل کیا ہے۔ آرٹس کے شعبہ میں کوٹور کے ہندو کالج کی طالبہ چئترا نے 600میں سے 589نمبرات کے ساتھ اول مقام پرہیں۔

جنسی تناسب کی بات کریں تو ہر سال کی طرح سال رواں بھی لڑکیوں نے لڑکوں پر بازی ماری ہے۔ کامیاب ہونےو الی طالبات کی شرح 60.28فی صد ہے تولڑکوں کے نتائج کی شرح 44.74فی صدہے۔ اگر دیہی اور شہری شرح کو دیکھیں تو دونوں میں کچھ زیادہ فرق نظر نہیں آرہاہے۔ شہری نتائج کی شرح 52.88فی صد ہے تو دیہی کا تناسب 50.72فی صد ہے۔

طلبا اگر اپنے پرچوں کی دوبارہ جانچ چاہتے ہیں تو 28مئی آخری دن ہوگااور جوابی پرچوں کی نقل کے لئے 19مئی آخری تاریخ ہوگی۔ 28جون سے 8جولائی تک سپلمنٹری امتحان ہوگا یعنی جو طلبا اس امتحان میں ناکام ہوئے ہیں وہ فوری طورپر اپنے کالج کے دفتر سے رابطہ کرکے دوبارہ امتحان کے لئے فارم بھریں اور انہیں اسی سال دوبارہ امتحان دینے کا موقع ملے گا اور کامیاب ہونے پر اپنی تعلیم بغیر کسی نقصان کے جاری رکھ سکیں گے۔

موصوف وزیر نے ریاستی سطح کے ٹاپر س کے ناموں کا اعلان کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ کالج والے ٹاپرس کا نام استعمال کرتے ہوئے ایک دھندہ بنالئے ہیں، اسی لئے ہم محکمہ کی طرف سے ان کے نام اعلان نہیں کریں گے۔


Share: