رانچی،24 ؍اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) چارہ گھوٹالے میں جیل کی سزا کاٹ رہے بہار کے سابق وزیر اعلی اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو یادو کے میڈیکل گراؤنڈ پر پیر ول بڑھانے سے انکار کر دیا ہے اور جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو کو 30 اگست تک خودسپردگی کا بھی حکم دیا ہے ۔اس طرح گویا کہ طبی بنیاد پر ان کی ضمانت کے لیے تین ماہ تک کی توسیع کی عرضی کورٹ نے مسترد کر دی ہے۔یعنی اب 30 اگست تک لالو یادو کو جیل جانا ہوگا ۔
واضح ہو کہ لالو یادو 10 اپریل سے پیرول پر ہیں۔لالو یادو فی الحال ممبئی کے ایک ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں ۔اگرچہ لالو یادو کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انہیں کئی اور طرح کی بیماری ہیں، اس لیے انہیں طبی نقطۂ نظر سے ایک اور پے رول دیا جانا چاہئے۔دراصل لالو یادو کے وکلاء نے میڈیکل گراؤنڈ پر پروویجنل بیل کی مدت بڑھانے کی مانگ کی تھی، جسے کورٹ نے مسترد کر دیا۔
لالو یادو کے وکیل پربھات کمار نے کہا کہ لالو یادو کا علاج ابھی رانچی کے راجندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس ہسپتال میں ہوگا۔انہیں ممبئی کے ایشین ہارٹ انسٹیٹیوٹ سے لایا جائے گا، جہاں انہیں داخل کرایا گیا تھا۔چارہ گھوٹالہ کے معاملہ میں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں اور اس وقت عبوری ضمانت پر رہا آر جے ڈی صدرلالو پرساد امراض قلب سے متعلق شکایتوں کے علاج کے لئے ممبئی کے ہسپتال میں داخل تھے۔
غور طلب ہے کہ لالو پرساد یادو چارہ گھوٹالے کے دیوگھر خزانے سمیت تمام تین مقدمات میں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں۔چارہ گھوٹالہ سے جڑے تین مقدمات رانچی واقع سی بی آئی عدالت نے دسمبر 2017 کو لالو کو سزا سنائی تھی،آر جے ڈی لیڈر کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا۔
تاہم آر جے ڈی کے رہنماؤں اور لالو یادو کے خاندان کے لوگوں کو اس بات کا خدشہ تھا کہ کورٹ اور اب وقت میں توسیع نہ دے؛کیونکہ پچھلی سماعت کے دوران کورٹ کے رخ سے صاف تھا کہ اگر کوئی اور سرجری کی ضرورت نہیں ہیں تو لالو یادو واپس جیل جا سکتے ہیں۔
واضح ہو کہ گزشتہ دنوں حزب اختلاف کے رہنما تیجسوی یادو ان سے ملنے ممبئی گئے تھے اور انہوں نے تصویر ٹویٹ کر ان کی حالت پر تشویش ظاہر کی تھی۔