کولکاتہ،4فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سابق فوجی سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) شنکر رائے چودھری نے کہا کہ چین کی طرف سے تسانگپو۔ برہم پتر دریا کے راستے میں مبینہ طور پر تبدیلیاں کرنے سے ہندوستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الزام درست ہے تو اس دریاکوجوہندوستان میں برہم پترا کہا جاتا ہے، ان کے پاس دریاؤں کی کافی مقدار ہے، جس میں مناسب بارش کا پانی آتا ہے۔رائے چودھری نے ہند۔چین متعلقہ متنازعہ مسائل کو حل کرنے کے طریقوں پر سمپوزیم میں کہا کہ اگر چین پانی کا راستہ بدلتا ہے تو ہندوستان کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چین نے ان خبروں کو مسترد کیا ہے اس نے اس نے تسانگوندی راستہ بدلاؤکرکے اسے شنجیانگ کی طرف کیاہے۔سابق قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائن نے حالانکہ اس معاملے پر ایک مضبوط موقف اختیار کیا اور کہا کہ چین ہندوستان کے ساتھ پانی کی جنگ شروع کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ چین برہم پتر پر جنگ پر غور کر رہا ہے۔جنرل رائے چوہدھری نے انڈسٹری اور مینوفیکچرنگ کے سامنے چین سے پچھڑنے کے لیے ہندوستان کے اقتصادی شعبے کی سست رفتار سے چلنے کوذمہ دارٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ہندوستان کی سست روی اور لالچی اقتصادی شعبے کوذمہ دارٹھہراناچاہیے نہ کہ چین کو۔ ہمیں چین کے مقابلے میں سستے اور معیار ی مصنوعات بنانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ چین میں موجودہ مصنوعات نے پہلے سے ہی ہندوستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کا مقابلہ کرنے کے لئے ہندوستان کو مینوفیکچررز کو مضبوط کرنا چاہئے۔ ایشیا کی معیشت کو مغربی معیشت سے زیادہ بڑھانے پر نارائن نے کہا کہ دنیا میں ایک وقت میں دو آبادیوں کو ایک ساتھ اضافہ کرنے اور وہ بھی اسی علاقے میں، ایسا کم ہی دیکھا گیا ہے اور اس کے نتائج مفید نہیں ہیں۔ چین اورہندوستان بہت سی افواج جیسے سیاست، معیشت اور فوج میں مقابلہ کر رہے ہیں۔