ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کابینہ میں نئے وزراء کی شمولیت کے بعد یڈی یورپا کی مشکلیں کم ہونے کے بجائے کیا بڑھ گئی ہیں ؟

کابینہ میں نئے وزراء کی شمولیت کے بعد یڈی یورپا کی مشکلیں کم ہونے کے بجائے کیا بڑھ گئی ہیں ؟

Fri, 22 Jan 2021 00:26:27    S.O. News Service

بنگلورو،21؍جنوری(ایس او نیوز) ناراض اراکین اسمبلی کو مطمئن کرنے کے لئے گذشتہ ہفتہ  کابینہ میں توسیع کی گئی تھی مگر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ایسا کرنے سے یڈی یورپا کی مشکلیں کم ہونے کے بجائے، اُس میں مزید اضافہ ہوگیا   اور  بی جے پی حکمراں کرناٹک میں سیاسی بحران پیدا ہونے کے آثار بڑھتے  ہی جا رہے ہیں۔پتہ چلا ہے کہ اب حالیہ کابینی وزراء اور بععض وزراء کے محکموں میں تبدیلی سے اب بی جےپی کے کچھ سنئیر لیڈران ناراض  ہوگئے ہیں۔خبر تو یہ بھی ہے کہ  کچھ وزراء نے  استعفیٰ دینے کی بھی  دھمکی دے ڈالی ہے۔

جن وزراء  کا محکمہ تبدیل کیا گیا ہے ان میں جے. سی. مدھوسوامی اور کے. سدھاکر کا نام  بھی شامل ہے اور یہ دونوں ہی بی جے پی میں بڑا قد رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مدھوسوامی یدی یورپا کے فیصلے سے حیران اور انتہائی ناراض ہیں۔ انھوں نے محکمہ میں تبدیلی کو اپنے لیے بے عزتی ٹھہراتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دی ہے۔ دراصل مدھوسوامی سے قانون اور پارلیمانی امور کی ذمہ داری واپس لے لی گئی ہے اور انھیں میڈیکل ایجوکیشن کا محکمہ دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے مدھوسوامی انتہائی اہم محکمہ چھین لیے جانے اور غیر اہم محکمہ دیئے جانے کو قبول نہیں کر پا رہے۔

دوسری طرف کے. سدھاکر بھی ناراض ہیں کیونکہ ان سے میڈیکل ایجوکیشن کی ذمہ داری واپس لے لی گئی ہے اور ان کے پاس اب صرف محکمہ صحت و خاندانی فلاح و بہبود رہ گیا ہے۔ وہ بھی وزیر اعلیٰ یدی یورپا کے فیصلے سے خوش نظر نہیں آ رہے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جن سات نئے لوگوں کو وزیر بنایا گیا ہے، ان میں سے بھی 5 وزراء کھل کر برہمی کا اظہار کر چکے ہیں۔ یہ وزراء دیئے گئے محکمہ سے خوش نہیں ہیں، کیونکہ وہ بہتر محکمہ کے خواہشمند تھے۔

ذرائع کے مطابق لنگایت لیڈر مروگیش نرانی لیوکریٹو انرجی کے خواہشمند تھے، لیکن انھیں لائٹ ویٹ مائنس اینڈ منرلس کا محکمہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح سینئر بی جے پی رکن اسمبلی اروند لمباولی کو محکمہ جنگلات دیا گیا ہے اور جب کہ وہ بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھارٹی پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ لمباولی کم از کم اربن ڈیولپمنٹ محکمہ تو ضرور چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بغاوت کا اشارہ تک دے دیا ہے۔ ایک دیگر بی جے پی رکن اسمبلی ایم ٹی بی ناگراج تو محکمہ ایکسائز دیئے جانے کے بعد غصہ میں وزیر اعلیٰ دفتر سے نکل گئے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ یدی یورپا ناراض وزراء کے ساتھ بات چیت کر کے انھیں سمجھانے کی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن حالات بہت اچھے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کو اپنی حکومت بنائے رکھنا مشکل ہو سکتا ہے اگر ناراض وزراء کو جلد نہیں منایا جاتا۔ خبریں تو ایسی بھی آ رہی ہیں کہ بی جے پی کے کچھ سینئر اراکین اسمبلی اعلیٰ کمان سے رابطے میں ہیں اور یدی یورپا کے خلاف شکایت بھی کر چکے ہیں۔


Share: