کاروار:14؍ جنوری (ایس اؤ نیوز) شہر کے سمندری ساحل پر رابندر ناتھ ٹیگور بیچ کی توسیع کے خلاف ماہی گیروں نے سخت موقف کو اپناتے ہوئے دوسرےدن بھی احتجاج جاری رکھا، جس کے دوران کاروار رکن اسمبلی اور بی جے پی ایم کے پوسٹروں کی بے حرمتی کی گئی اور اُن کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔
کاروارکے بلٹ سرکل پر ماہی گیروں نے احتجاج کیا تو ڈی سی دفتر کے باہرعوام نے مظاہرہ کیا وہیں سمندری ساحل پر ماہی گیر خواتین نے جمع ہوکرسخت احتجاج کیا، یعنی بیک وقت تین الگ الگ جگہوں پر حتجاج اور مظاہرے کئے گئے۔ احتجاجیوں نے سرکار کے خلاف نعرے بازی کرتےہوئے انصاف کا مطالبہ لےکر دھرنےپر بیٹھے ہیں۔ مچھلی مارکیٹ مکمل بند ہے اور احتجاجی مقامات پر حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔
ماہی گیروں نے منگل کو مچھلی مارکیٹ بند رکھتے ہوئے احتجاجی مظاہرو
ں میں سیکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔ ماہی گیروں نے اپنے مطالبات کی حمایت نہ کرنے اور جائے احتجاج پر ان سے ملاقات نہ کرنے پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور مرکزی حکومت، ایم پی اننت کمار ہیگڈے اور رکن اسمبلی روپالی نائک کے خلاف ’اِڈلی سامبر اچھا ہے ۔ ۔۔بی جے پی سرکار لُچھا ہے ‘‘ کے نعرے لگائے ۔ نعرے بازی سے بھی جب ل نہیں بھرا تو جبہ پہنا کر مقامی رکن اسمبلی روپالی نائک کا پوسٹر تیار کیا گیا، اسی طرح ساڑی پہنے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کے پوسٹروں کو گوبر پوت کر ٹوٹی ہوئی چپلوں کا ہار ڈال کر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ خا ص کر ماہی گیر خواتین نے مرکزی حکومت ، رکن اسمبلی روپالی نائک ، رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کے خلاف دل کھول کر لعنت ملامت کیں۔ اس موقع پر ایک خاتون نے کہاکہ جب اس کو (ایم ایل اے اور ایم پی ) کو ووٹوں کی ضرورت تھی تو ہر روز آکر ملتے اور گلے لگاتے تھے ، آج جب ہم زندگی کے اہم موڑ پر ہیں، کوئی ہماری بات سننے نہیں آرہاہے۔ کیا ماہی گیروں کی کوئی عزت نہیں ہے ، ان کی قدر نہیں ہے ماہی گیرلیڈروں نے ساگر مالا کی مخالفت کرتے ہوئے 16جنوری کو کاروار بند کا بھی اعلان کیاہے۔ اس موقع پر احتجاجیوں نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔