کاروار:25؍دسمبر(ایس اؤ نیوز) بحرہ ٔ عرب کے رابندر ناتھ ٹیگور بیچ کو لے کر بندرگاہ کی توسیع کے لئے تعمیر کی جارہی تحفظاتی دیوار کا کام روکنے کا مطالبہ لےکر ماہی گیر طبقہ منگل کو ڈی سی دفتر کے سامنے احتجاج کیا۔
ساگرمالا منصوبے کے تحت بندرگاہ کی توسیع کے متعلق فائدے اور نقصانات کا جائزہ لینےکے لئے ریاستی وزیر برائے بندرگاہ اور ماہی گیر کوٹا شری نواس پجاری اترکنڑا ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں غور وفکر کررہے تھے۔ اسی دوران انہیں متعلقہ مسئلہ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے علامتی طورپر احتجاج کیاگیاتھا۔ جس میں سیکڑوں ماہی گیر جمع ہوکر ساگر مالا منصوبے کو رد کئے جانے کا مطالبہ کیا۔
ماہی گیر طبقے کا کہنا ہے کہ کاروار میں صرف ایک بیچ باقی ہے ، بندرگاہ کی توسیع کے بہانے برباد کیا جارہاہے، اور تحفظاتی دیوار کی تعمیر سے ماہی گیری کی سبھی سرگرمیاں ٹھپ پڑجائیں گی ۔ ہزاروں ماہی گیر خاندان سڑک پر آجانے کی احتجاجیوں نے موصوف وزیر کو توجہ دلائی۔ اپنے تمام کاروباری کاموں کو چھوڑ کر احتجاج میں جمع ہوئے ماہی گیروں سے ملنے جائے وقوع پہنچے وزیر کوٹا شری نواس پجاری نے تیقن دیا کہ تحفظاتی دیوار سے ماہی گیر طبقے کو تکلیف یا پریشانی نہ ہو اس کا خاص خیال رکھاجائے گا۔ اس سلسلے میں بنگلورو میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کرنےکی بھی بات کہی۔ اس موقع پر کاروار میونسپالٹی کے ممبرا ن بھی ساگر مالا منصوبے کو رد کئے جانے کا مطالبہ لے کر وزیر کو میمورنڈم سونپا۔
رکن اسمبلی روپالی نائک سمیت دیگر موجود تھے۔ ماہی گیر طبقے کے لیڈران گنپتی مانگرے، کے ٹی تانڈیل ، راجو تانڈیل ، وینکٹیش ہری کنتر، وامن ہری کنتر، ونایک ہری کنتر، سوشیلا ہری کنتر سمیت کئی لوگ موجود تھے۔