کاروار:18؍نومبر(ایس اؤ نیوز) ودھان پریشد کے رکن شانتا رام سِدّی کے بیان ’’ تبدیلی ٔ مذہب کئے ہوئے افراد کو ایس ٹی فہرست سے نکال باہر کیا جائے۔اور ایسے افراد کو درج فہرست طبقے کو ملنے والی سہولیات نہ دی جائیں ‘‘پر خود ان کے طبقےکے لوگوں نے ہی سخت مخالفت کرتےہوئے سیکڑوں افراد نے ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی معرفت صدر ہند کے نام میمورنڈم سونپتے ہوئے سہولیات جاری رکھنے پر زور دیاہے۔
میمورنڈم سونپنے کے بعد پریس کانفرنس میں بات کرتےہوئے سدی طبقے کے لیڈر دیوگ سدی نےکہاکہ ہم ہندو، مسلم اور عیسائی دھرم پر عمل کرتےہوئےزندگی گزار رہے ہیں، حکومت نے سبھی سدیوں کو ایک طبقہ میں شمار کرتےہوئے سہولیات مہیا کی ہیں جب کہ ہمیں دھرم کی بنیاد پر یہ سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ ہاں ، اگر ہمارے درمیا ن کوئی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات دونوں طرف سےسہولیات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تو شانتارام سدی ان کی نشاندہی کریں، ایسے افراد کی فہرست تیار کرکے ڈی سی اور طبقے کے لیڈران کے سامنےظاہر کریں۔ اگر وہ اس میں ناکام ہوتےہیں تو ودھان پریشد کی رکنیت سےاستعفیٰ دینےکی مانگ کی۔
سب سے پسماندہ سدی طبقے کے ایک لیڈر کو ودھان پریشد کی رکنیت سےنوازاگیا تو ہم سبھی نے خوشیاں منائی تھیں، مگر افسوس کہ انہوں نےہمارے درمیان سوچ بچار کئے بغیر صدر ہند کو میمورنڈم دیا ہے، ایسےبیانات کیا وہ خود دے رہے ہیں یا انہیں کہلوایا جارہاہےہمیں پتہ نہیں۔ ان کے اقدام سےہمیں دھکا لگا ہے، ڈی سی صاحب نے ہمیں قانون کا شعور دلا کر ہمارے تذبذب کو دور کرنے کی بات کہی۔ خیال رہےکہ ودھان پریشد کے رکن شانتا رام سدی نے 4نومبر کو صدرہند کے نام میمورنڈم سونپتے ہوئے مانگ کی تھی کہ روایتی پسماندہ طبقے جن سہولیات کا فائدہ اٹھار ہے ہیں ان سےکہیں زیادہ تبدیلی مذہب کئے ہوئے سدی طبقےکے لوگ فائدہ اٹھا رہےہیں۔ انہوں نے اس نا انصافی کو دورکرنےکی بات کہی تھی۔ واضح رہے کہ شانتا رام سدی کے میمورنڈم کی مذمت میں ہلیال میں بھی سخت احتجاج ہوچکا ہے۔