کاروار2/ اپریل (ایس اؤ نیوز )یکم اپریل سے شاہراہ ٹول فیس میں اضافہ ہونےکی وجہ سے کاروار کی سرحد سے کنداپور تک کی فورلین شاہراہ پر سفر کرنے والے سواریوں کودہری مار جھیلنی ہوگی یعنی شاہراہ کا سفر اب مزید مہنگا ہوگا۔
قومی شاہراہ ٹول فیس اصول 2008کےمطابق یکم اپریل سے ٹول فیس میں 22فی صد اضافہ ہوگیا ہے۔ ٹول فیس میں اضافے کےخلاف عوام نے سخت اعتراض جتاتے ہوئےکئی مقامات پر احتجاج اور دھرنا بھی دیا ہے۔ لیکن نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اس کی پرواہ نہ کرتےہوئے عام عوام کو لوٹنے کی تیاری میں مگن ہونے پر عوام نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
کنداپور سے گوا کی سرحد تک 187کلومیٹر لمبی شاہراہ پر اتھارٹی کی جانب سے 3ٹول گیٹ قائم کئے گئے ہیں۔ جب کہ مرکزی وزیر نتین گڈکری نے گذشتہ سال بیان دیتےہوئے کہاتھا کہ 60کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ٹول گیٹ ہوگا اور بقیہ ٹول گیٹ نکالے جائیں گے۔ لیکن وزیر کا بیان ، کاغذ پر ہی رہ گیا ہے عملی طورپر کہیں نظر نہیں آرہاہے۔ دیکھاجائے تو انکولہ کے ہٹی کیری اور کمٹہ کے ہولگیدے کے درمیان ٹول گیٹ کا فاصلہ 60کلومیٹر سےکم ہے۔
شاہراہ کی نامکمل تعمیر پر ٹول فیس کیوں ؟:ابھی تک فورلین شاہراہ کی تعمیر مکمل نہیں ہوئی ہے تو پھر کیوں ٹول فیس وصول کی جارہی ہے؟ ۔ شاہراہ تعمیر کی ٹھیکدار کمپنی آئی آر بی نے ابھی تک 17کلومیٹر کاتعمیری کام باقی رکھا ہے، اور کہیں بھی کام جاری نہیں ہے ۔ سب جگہوں پر کام ختم ہونےجیسا ماحول نظر آرہاہے۔ اس کے باوجود ٹول فیس وصولی پر عوام سخت ناراض نظر آرہے ہیں۔
قومی شاہراہ قانون 2008کے تحت یکم اپریل سے ملک بھر کی ٹول فیسوں میں اضافہ کیا جاتاہے ۔ لیکن عوام سوال کررہے ہیں کہ جہاں شاہراہ کی تعمیر مکمل نہیں ہوئی ہے اور صرف 80فی صد تعمیراتی کام ہوا ہے تو وہاں پر کیا ٹول فیس کی وصولی صحیح ہے؟ ۔ آج بھی چند مقامات پر سواریوں کے لئے مناسب سڑک نہیں ہے ،سڑک کی تعمیر ادھوری چھوڑ دی گئی ہے ، سڑک کنارے پہاڑوں کے کھسکنے کا خوف ستاتا رہتاہے، بعض مقامات پر جہاں سڑک گھماؤلیتی ہے وہاں مناسب بورڈ نہیں ہیںِ سرویس روڈ نہیں ہے ، سرنگ کا کام پورانہیں ہواہے ، فلائی اوور نہیں ہے ، اس کے باوجودٹول فیس میں 22فی صد کا اضافہ کرتےہوئے کونٹیرکٹ کمپنی عام عوام کو لوٹنے کی تیاری میں رہنے کا سوال ذہنوں میں پیدا ہورہا ہے۔
ترمیم شدہ ٖفیس :1۔کار/وین/جیپ : ایک طرفہ سفر کے لئے 110روپئے (40روپیوں کا اضافہ ) دو طرفہ کےلئے 165روپئے (30روپئے زائد )
2۔ ہلکی سواریاں /منی بس : 175روپئے (35روپیوں کا اضافہ )۔ دو طرفہ کےلئے 260روپئے (55روپیوں کا اضافہ)
3۔ٹرک /بس/2ایکسل سواریاں :360روپئے (70روپئے کا اضافہ) ۔ دوطرفہ 535روپئے (95روپئے کا اضافہ )
4۔ماہانہ پاس ۔چار پہیہ سواری کےلئے: بیلکیری میں 3090۔ ہولے گیدے میں 3615روپئے ۔
ہلکی سواریوں کےلئے :بیلکیری میں 4760روپئے ۔ ہولے گیدے میں 5715روپئے