ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار: کچے کچرے کو کھاد میں منتقل کرکے گرام پنچایت کی کمائی

کاروار: کچے کچرے کو کھاد میں منتقل کرکے گرام پنچایت کی کمائی

Thu, 25 Nov 2021 20:09:07    S.O. News Service

کاروار:25؍نومبر(ایس اؤ نیوز)تعلقہ کے چتاکولا گرام پنچایت کی جانب سےگھر وں  اورمارکیٹ  سے  جمع کئےجانےوالے کچے کچروں سے نامیاتی کھاد تیار کرتےہوئے پودوں ، درختوں اور فصلوں کےلئے استعمال کیا جارہاہے۔ اس طرح پنچایت ہزاروں روپئے کی کمائی کرنےکے ذرائع کو اپنایا ہے۔

کاروار تعلقہ چتاکولا گرام پنچایت کی جانب سے کچرے کو کھا د میں منتقل کرنےکی طرف ضلع میں بڑا قدم اٹھایا ہے ۔ جب کہ اس طرح کانظام کاروار، سرسی سمیت چند مقامی اداروں میں جاری ہے، لیکن کہا جارہا ہے کہ کسی پنچایت کی جانب سے اس طرح کا اقدام پہلی بار کیا گیا ہے۔

چتاکولا گرام پنچایت کا شمار آبادی کے لحاظ سے ضلع کی سب سے بڑی پنچایتوں میں ہوتا ہے۔ اس گرام پنچایت میں قریب 25ہزار کی آبادی ہے اور 5ہزار گھر ہیں۔ گرام پنچایت کی طرف سے رواں سال اپریل سے گھروں سےکچا کچرا جمع کرنا شروع کیا گیا ہے۔ فی الحال صرف ایک ہی سواری ہےجو کچرا اٹھاتی ہے، جس کو دیکھتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ کچرا نکاسی کا کام محدود حد تک ہی ہورہاہے۔

گرام پنچایت حدود میں روزانہ 25سے 30 کلو کچا کچرا جمع کیاجاتاہے۔ کچے کچرے کو کھاد میں منتقل کرنےکےلئے دو مشینیں نصب کی گئی ہیں جس کی نگرانی کےلئے عملہ بھی نامزد کیاگیا ہے۔ وہ یہاں کچرے سے نامیاتی کھاد میں منتقل کرنے کے بعد  جو بھی خریدار آتاہے انہیں فروخت کرتےہیں۔ فی کلو کھاد کی قیمت 10روپئے ہے۔

گرام پنچایت کی صدر سواتی سورج دیسائی کی جانکاری کے مطابق گرام پنچایت حدود میں کچرا جمع کرنےکی ذمہ داری درگا دیوی سوچھ سیوا سنگھا کو دی گئی ہے، ڈرائیور، کلینر اور 6عملہ کام کرتاہے۔ دیہات میں سے کل 22قسم کا کچرا جمع کیا جاتاہےیہاں لا کر اس کو الگ الگ کیاجاتاہے، سٹی اسکراپ نامی ادارہ پلاسٹک کی تقسیم کرتاہے، دوبارہ استعمال کی ہوئی چیزوں کی فروخت کاری سے سال 2020-21میں گرام پنچایت کو 93335 روپئے کی کمائی ہوئی ہے۔ جس میں سےعملے کی تنخواہ کے طورپر 70ہزار روپئے خرچ ہوتےہیں۔ پنچایت صدر نے بتایا کہ اس رقم کو کھاد کی فروخت کاری کےساتھ مساوی بنانےکی کوششیں جاری ہیں۔


Share: