کاروار،22/مارچ (ایس او نیوز) ہبلی اور انکولہ کے درمیان ریلوے لائن بچھانے کا جو مطالبہ ضلع شمالی کینرا کے عوام ایک طویل المدت سے کررہے تھے، ایسا لگتا ہے کہ اب وہ سپنا پورا ہوجائے گا، کیونکہ وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا کی قیادت والے ’کرناٹکاوائلڈ لائف بورڈ‘نے اپنے حالیہ اجلاس میں اس منصوبے کو ہری جھنڈی دکھائی ہے۔
خیا ل رہے کہ مغربی گھاٹ کے گھنے جنگلات سے اس ریلوے لائن کو گزرنا ہوگااور 168کلومیٹر لمبی ریلوے لائن کے اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے لئے 2.2لاکھ تناور درختوں کو کاٹنا ہوگا۔995.64ہیکٹر زمین کا استعمال اس پروجیکٹ ہونے والا ہے جس میں 190ہیکٹر جنگلاتی زمین بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہاں پر شیر اور دوسرے جانوروں کی پناہ گاہیں بھی موجود ہیں جسے بہت زیادہ نقصان پہنچنا یقینی ہے۔ گھنے جنگلات کو بڑے پیمانے پر کاٹنے کی وجہ سے یہاں کے موسم اور برسات کی مقدار پر بھی بُرا اثر پڑنے والا ہے۔ ان وجوہات کی بنیاد پر اس منصوبے کے خلاف بھی ایک طبقہ کھڑا ہوا ہے اور خاص کر جنگلاتی زندگی اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے کام کرنے والے کارکنان اور تنظیموں نے اس منصوبے کے خلاف مورچہ کھول رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1997سے اب تک کسی نہ کسی وجہ سے اس پر روک لگتی رہی ہے۔
9؍مارچ کو منعقدہ کرناٹکا وائلڈ لائف بورڈ کے تیرھویں اجلاس میں اراکین کے درمیان اس مسئلے پر شدید اختلاف پایا گیاتھااور ماحولیات اور جنگلی جانوروں کے تحفظ کے نقطہ ئ نظر سے کسی بھی قیمت پر اس منصوبے کو منظور نہ کرنے کی بات ہوئی تھی۔لیکن20؍مارچ کو اسی مسئلے پر پھر ایک بار بورڈ کا اجلاس منعقدکیا گیااور مخالفانہ آوازوں کو درکنار کرتے ہوئے بورڈ نے ریلوے پروجیکٹ کو منظوری دینے کا فیصلہ کیا۔
اس فیصلے کے بعد کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے اور ضمنی الیکشن جیت کر وزیر بننے والے یلاپور کے شیورام ہیبار نے کہاکہ ضلع شمالی کینرا کے عوام کے لئے یہ ایک خوشی کا دن ہے۔ضلع کی ترقی چاہنے والے اور خاص کر یہاں کے نوجوان اس منصوبے کے آغاز کا بہت دنوں سے انتظار کررہے تھے۔ آج اس خواب پر لگی ہوئی بڑی رکاوٹ ہٹادی گئی ہے۔اب یہ سپنا پورا ہونے کے لئے بس ایک اورمرحلہ باقی ہے۔اسی طرح ضلع کے رکن اسمبلی اننت کمار ہیگڈے نے بھی اس فیصلے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے اور وزیرا علیٰ ایڈی یورپا کا خصوصی طورپر شکریہ ادا کیا ہے۔جبکہ کاروار انکولہ حلقے سے منتخب رکن اسمبلی روپالی نائک نے اسے عوام کی سہولت کے لئے ایک بہت ہی اہم فیصلہ قرار دیا ہے۔اورکہا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل ہونے پر یہاں پر صنعت کاری اور سیاحت کو فروغ دینے اور اقتصادی ترقی کے لئے مزید مواقع پیدا ہونگے۔ا ب ریاستی وائلڈ لائف بورڈ نے جو فیصلہ لیا ہے اسے مرکزی بورڈ کو روانہ کردیا جائے گااور منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے راستہ صاف ہوجائے گا۔ ریاستی سطح پر اس طرح کا بڑا فیصلہ کرنے پرروپالی نائک نے وزیر اعلیٰ کو مبارکباد پیش کی ہے۔
مگر ماحولیات اور جنگلاتی زندگی کے مفاد ات کو سامنے رکھ کر اس منصوبے کی مخالفت کرنے اور اس سے قبل سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے والے ’وائلڈرنیس کلب‘ کے سیکریٹری منجوناتھ نے کہا ہے وہ پھر ایک بار اس تازہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں معاملہ لے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ”کئی محکمہ جات اور اداروں نے اس منصوبے کو مسترد کردیا تھا۔ مرکزی وائلڈ لائف بورڈ نے بھی پچھلی مرتبہ اسے مسترد کیا تھا۔ اس کے باوجود ریاستی بورڈ نے ہری جھنڈی دکھائی ہے۔ ہم اس کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ ضرور کھٹکھٹائیں گے۔“
کے منجو ناتھ کا کہنا ہے کہ ”2005ء میں جب محکمہ ریلوے کی طرف سے منصوبے کا سروے کیا جارہا تھا، اس وقت عملے کے لئے رہائش گاہیں تعمیر کرنے کے لئے سیکڑوں درخت کاٹ ڈالے گئے تھے۔محکمہ جنگلات سے منظور ی ملنے سے پہلے ہی 200کروڑ روپوں سے زیادہ عوام کا پیسہ اس منصوبے کے نام پرخرچ کیا جاچکا ہے۔“
اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی آسانی سے ریلوے لائن بچھانے کا کام شروع نہیں ہوگا بلکہ ابھی کچھ عدالتی دا ؤ پیچ کی وجہ سے اس میں تاخیر کے امکانات باقی ہیں۔.