ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار: گرام پنچایت انتخابات شیورام ہیبار بمقابلہ دیش پانڈے ؟: کل سے پرچہ نامزدگی داخلے کے ساتھ دیہی جنگ کی شروعات

کاروار: گرام پنچایت انتخابات شیورام ہیبار بمقابلہ دیش پانڈے ؟: کل سے پرچہ نامزدگی داخلے کے ساتھ دیہی جنگ کی شروعات

Sun, 06 Dec 2020 19:59:36    S.O. News Service

بھٹکل 6؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) ضلع میں گرام پنچایت کے انتخابات دو مرحلوں میں منعقد ہونگے۔ دیہی جنگ کو لے کر شہری لوگوں میں ایک طرح کا تجسس دیکھا جارہاہے۔ 7دسمبر سے انتخابات کے لئے پرچہ نامزدگی کا داخلہ شروع ہوتےہی دیہی جنگ کا بگل بج اٹھے گا ، اس مرتبہ کے الیکشن پہلے سے کہیں زیادہ سیاسی سرگرمیوں سے پُر ہونے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

اترکنڑا ضلع کی حد تک بات کریں تو بی جےپی کی قیادت ضلع نگراں کاروزیر ہی کے ہاتھ رہے گی۔ جہاں تک کانگریس کا معاملہ ہے  سنئیر کانگریس لیڈر دیش پانڈے سمیت متعلقہ حلقہ کے سابق ارکان اسمبلی کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ ایک زاویہ سے انتخابی جنگ کو دیکھیں تو بی جے پی بمقابلہ کانگریس کے بجائے  شیورام ہیبار اور دیش پانڈے کی قسمت داؤ پر ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔ بیلگام میں جمعہ کو منعقدہ بی جےپی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں فیصلہ لیاجاچکا ہے کہ گرام پنچایت انتخابات کی ذمہ داری متعلقہ ضلع نگراں کار وزراء کو ہی دی جائے گی، اس طرح پورے ضلع میں بی جے پی کو جیت دلانےکی ذمہ داری شیورام ہیبار کے کندھوں پر ہے۔ لیکن کانگریس میں متعلقہ حلقوں کے حالیہ اور سابقہ ارکان اسمبلی کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔  اگر گرام پنچایت انتخابات میں بی جےپی زیادہ نشستوں پر جیت حاصل کرتی ہے تو ظاہر ہے کہ پارٹی میں شیورام ہیبار کا قد اونچا ہونے کے امکانات ہیں اسی وجہ سےوہ کانگریس مقابلے کےلئے اپنے کارکنان کا دستہ لے کر محنت کریں گے۔

دوسری طرف کانگریس حالیہ ودھان سبھا انتخابات میں بری طرح شکست سے دوچارہونے سے اس کے لئے گرام پنچایت الیکشن میں جیت ضروری ہوگئی ہے۔ چونکہ دیش پانڈے سنئیر لیڈر ہیں اسی لئے کانگریس ان پر زیادہ اعتماد کئے ہوئے ہے۔ اگر کانگریس زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوتی ہے تو مستقبل میں دیش پانڈے کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ضلع کے  ساحلی پٹی تعلقہ جات میں کل سے انتخابی جنگ شروع ہوجائے گی۔

امیدواروں کی تلاش :ایک کے بعد ایک جیت حاصل کرنےو الی بی جے پی پہلی مرتبہ دیہی علاقوں میں کامیابی سے ہم کنار ہونے کے جذبے سے سرشار نظر آرہی ہے۔ جس کے لئے پنچ رتنا، گرام سوراجیا جیسے اسکیموں کے بل بوتے پر اپنی کارکنان کا دستہ تیار کی ہوئی ہے۔ جو بھی ہو، جیسے بھی ہو، کسی طرح سےکیوں نہ ہو، گرام پنچایت انتخابات جیت کر آئندہ کے ودھان سبھا انتخابات میں آسانی سے کامیابی حاصل کرنےکے لئے بی جےپی اندرونی طورپر منصوبہ بنا چکی ہے۔ جس کے تحت قریہ قریہ بی جےپی کارکنوں کے دستے سرگرم عمل ہیں۔ لیکن ایک نشست سے کے لئے ایک سے زائد امیدوارہونے پر بی جے پی کے لئے   سب سے بڑا مسئلہ اور درد سر بن گیا ہے۔ اب بی جےپی کے لئے جیت سے پہلے امیدوار کا انتخاب ایک سوال بن گیا ہے۔ یہی مسئلہ بی جےپی کے منصوبے کو خاک میں بھی ملا دے کوئی تعجب نہیں ہے۔ دیکھ دکھلا کر ایک متوازن شخصیت کے مالک کو امیدوار بنانا بی جے پی کے لئے چیلنج ہے۔ بی جےپی اس وقت مودی  کی کارکردگی اور یڈیورپا کے نام پر گرام پنچایت انتخابات کا سامنا کرنےکی تیاری میں ہے۔

کانگریس بھی کسی سے کم نہیں ہونے کا جذبہ لے کر میدان عمل میں کودنےکی تیاری میں ہے، متعلقہ ودھان سبھا حلقہ کے گرام پنچایتوں کی ذمہ داریاں اد اکرنے کے لئے حالیہ و سابقہ ارکان اسمبلی کو ریاستی کمیٹی نے آرڈر دی چکی ہے۔ دیہات میں پہلے سے کانگریس کی پکڑ مضبوط رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ پچھلی بار کے دیہی انتخابات میں کانگریس ایک قدم آگے تھی، اسی جیت کو برقرار رکھنے اور مزید مستحکم ہونے کے لئے کانگریس نے بھی منصوبہ بندی کی ہے، کانگریس میں جیتنے والے گھوڑوں کی تلاش میں ہے۔ جے ڈی ایس اپنے طورپر تیاریوں میں لگی ہوئی ہے، مگر ابھی تک پارٹی لیڈران کی طرف  سے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی ہدایات جاری نہیں ہونے کی بات کارکنان کی طر ف سے سنی جارہی ہے۔ امیدوار کو دیکھ کر پارٹی سپورٹ کرنے کے موڑ میں نظر آرہی ہے۔


Share: