کاروار:26؍ جولائی(ایس اؤ نیوز)یومِ آزادی کے جشن سے پہلے اترکنڑا ضلع کے لئے ملٹی اسپیشالٹی اسپتال کی منظوری نہیں کی گئی تو 16اگست سے ہزاروں کی تعداد میں ڈی سی دفترکا گھیراؤ کرتےہوئے احتجاج کیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان اترکنڑا ضلع پکشا تیت جن پر ویدیکے کے لیڈر اور سماجی کارکن ڈاکٹر گجیند رنائک نےکیا۔
شہر کے پتریکا بھون میں پریس کانفرنس کے ذریعے بات کرتےہوئے انہوں نے بتایا کہ حالات اس حد تک بدتر ہوگئے ہیں کہ ضلع کے عوام حادثات کے دوران راستے پر ہی تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ حادثے کے بعد فوری طورپر علاج کرتے ہوئے جان بچانے کےلئےسہولیات سے آراستہ ایک بھی اسپتال میسر نہیں ہے تو بتائیے ہم 75ویں آزادی کے موقع امرت مہوتسوا کس خوشی میں منائیں ۔
وکاس یعنی ترقی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارے ساتھ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اترکنڑا ضلع کی ترقی ہو، لیکن ایسی ترقی نہیں چاہئے جو عوام کو سڑکوں پرلائے، ایسی ترقی کے بجائے ہمیں صرف ایک ملٹی اسپیشالٹی اسپتال بنائیں۔ اترکنڑا ضلع کے عوام کی مرضی کے خلاف پچھلے کئی برسوں سے سرکاری منصوبہ جات کو تھوپا جارہاہے، یہ صحیح ہے کہ ان منصوبہ جات سے ترقی ہوتی ہے لیکن انہی منصوبہ جات کی وجہ سے لاکھوں خاندانوں کی زندگی سڑک پر آئی ہے۔ ایسی ترقی کے بجائے ہمیں سہولیات سے آراستہ ایک اسپتال بنانے کا انہوں نے مطالبہ پیش کیا ۔
عوامی نمائندوں پر کڑی تنقید کرتےہوئے انہوں نےکہاکہ جب انتخابات آتے ہیں تو صرف اسی وقت ضلعی عوام کے متعلق بڑی ہمدردی جتائی جاتی ہے، ضلع کے عوام پچھلے کئی برسوں سے صحت ، علاج معالجہ کو لےکر پڑوسی اضلاع پر انحصار کرتےہوئے موت کا شکار ہورہےہیں اور زخموں سے چور ہیں، اتنا سب کچھ ہونےکے باوجود یہاں بے شعور عوامی نمائندوں کو اپنی ذمہ داری یاد نہیں ہے۔ حالات سے بیزار عوام بھگوان سے ہی سوال کررہےہیں کہ آخر ہم یہاں پپدا ہی کیوں ہوئے؟۔
گذشتہ کئی سالوں سے حکومت کےظلم کاسامنا کرنے والے حالات میں بھی وزیر اعلیٰ ، رکن پارلیمان اور بااثر شخصیات دینے والا ضلع اتنا پسماندہ ہے تو ہمارے لئے یہ بڑے شرم کی بات ہے۔ اس معاملےمیں سابقہ اور حالیہ سیاست دان سامنے آئیں ، بلاتفریق پارٹیوں کے متحدہ کوشش کی جائے تو ضلع میں ایک بہتر سہولیات سے آراستہ اسپتال تعمیر ہونے کا خیال ظاہر کیا۔ پریس کانفرنس میں دنیکر وامن ناگیکر، چندر کانت ہری کانت، چندرکانت نائک، شنکر گنگی ، وینکٹیش ورنیکر، جی ایس نائک انیل ماجالی کر، اشوک رانے وغیرہ موجود تھے۔