ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: 'ہوم اسٹے' کے نام پر لاڈجنگ کا کاروبارچلانے والے ہوشیار۔ کارروائی کر سکتی ہے سرکار

کاروار: 'ہوم اسٹے' کے نام پر لاڈجنگ کا کاروبارچلانے والے ہوشیار۔ کارروائی کر سکتی ہے سرکار

Wed, 27 Jan 2021 20:47:53    S.O. News Service

کاروار،27؍جنوری (ایس او نیوز) شمالی کینرا کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے بتایا کہ ضلع میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے سرکاری طور پر 'ہوم اسٹے' کی اجازت دی جاتی ہے، لیکن دیکھا جارہا ہے کہ لوگ اس سہولت کا غلط استعمال کررہے ہیں اور 'ہوم اسٹے'  کے نام پرغیرقانونی لاڈجنگ کا کاروبار مشروم کی طرح سر اٹھا رہا ہے۔ اس لئے ضلع کے اندر موجود تمام ہوم اسٹے سہولتوں کا از سر نو جائزہ لینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاکہ اس کی روک تھام ہوسکے۔

یوم جمہوریہ کے موقع پر پولیس پریڈ گراونڈ پر تقریب کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ 'ہوم اسٹے' کا مطلب ہوتا ہے جس مقام پر عمارت کے مالکین خود رہائش پزیر رہتے ہوں وہاں پر بشمول خواتین سیاحوں کو بطور مہمان قیام کی سہولت فراہم کرنا۔ ایسے سیاحوں کی میزبانی کے ساتھ انہیں تحفظ بھی فراہم کرنا مکان مالکین کے ذمہ ہوتا ہے۔ لیکن اس سے ہٹ کر ہوم اسٹے کے نام پر لاڈج بنائے جا رہے ہیں۔ وہاں پر مالکین مکان قیام نہیں کرتے ۔ ایسی صورت میں کوئی ناخوشگوار بات ہوجاتی ہے تو اس سے ٹورازم انڈسٹری پر برا اثر پڑتا ہے۔ 

ڈی سی ہریش کمار نے واضح کیا کہ جہاں مکان مالکان قیام نہیں کرتے انہیں ان سہولتوں کو بند نہیں کیا جائے گا ، بلکہ انہیں ہوم اسٹے کے قوانین کی پابندی کرنے کے لئے ہدایات جاری کی جائیں گی۔

انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ڈانڈیلی سمیت کالی ندی میں رافٹنگ کے دوران لازمی قوانین کی پابندی نہ کرنے کی بھی شکایات مل رہی ہیں۔ کووڈ وبا میں کمی آنے کے بعد ضلع میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈانڈیلی میں ریور رافٹنگ کے لئے آنے والے سیاح منتظمین کی طرف سے ہدایت دینے پر بھی قوانین کی پابندی کیے بغیر ہی موج و مستی کرنے کی خبریں مل رہی ہیں۔ اس لئے رافٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والے ادارے پر ہی نہیں ، قانون کی پابندی کے بغیر رافٹنگ کرنے والوں پر بھی کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ڈی سی نے کہا کہ ساحلوں پر لائف گارڈس تعینات کیے گئے ہیں۔ مگر سیاح خود ہی سمندری خطرات کو نظر انداز کرکے اپنی جان جوکھم میں ڈال رہے ہیں۔ اس لئے اب اگر سیاح پانی میں اترنے سے منع کرنے کے باوجود خطرہ مول لیتے ہیں اور پھر ڈوبنے  لگتے ہیں، تو لائف گارڈس کے ذریعے ان کی جان  بچا لینے کے بعد اب ان لوگوں پر بھی قانونی ہدایت کی پابندی نہ کرنے اور اپنی جان کوخطرے میں ڈالنے کا معاملہ درج  کیا جائے گا۔

ڈآکٹر ہریش کمار نے شیموگہ میں کان کنی علاقے میں ہوئے ڈائنا مائٹ بلاسٹ کے پس منظر میں کہا کہ ضلع شمالی کینرا میں غیر قانونی کان کنی کے لئے آئندہ کوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔ شیموگہ بلاسٹ کے بعد شمالی کینرا کے تمام اسسٹنٹ کمشنرس کی میٹنگ طلب کرکے انہیں ہدایت دی گئی ہے، اپنے اپنے علاقے میں کان کنی کے مقامات پر پہنچ کر وہاں کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے ۔ ضلع میں اجازت کے بغیر بارودی دھماکہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ضلع اور ریاست کے باہر کے لوگ دھماکے کرتے ہیں۔ 


Share: