بنگلورو،8؍اکتوبر(ایس او نیوز) ریاستی کابینہ کی توسیع ملتوی ہونا تقریباً طے معلوم ہورہا ہے۔ کانگریس پارٹی میں اختلاف رائے اور ناراضی کی لہر زوروں پر ہے ۔ کابینہ کی توسیع میں بار بار ہورہی تاخیر سے وزارت کے خواہشمند اراکین اسمبلی اپنی ناراضی ظاہر کرنے لگے ہیں ۔ وزارت کے امیدوار ہیرے کیرور کے رکن اسمبلی بی سی پاٹل نے کھلے عام ناراضی ظاہر کردی ہے ۔ کابینہ کی توسیع رواں ماہ 10یا 12تاریخ کو طے تھا ، امید لگائے امیدواروں کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ضمنی انتخابات کااعلان ہوا ، لوک سبھا کی 3اور اسمبلی کی دو سیٹوں کے لئے ضمنی انتخابات کااعلان ہونے کی وجہ سے 3نومبر تک کابینہ میں توسیع ممکن نظر نہیں آرہی ہے ۔ کابینہ کی توسیع میں ہورہی تاخیر پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بی سی پاٹل نے ٹوئٹ کیا کہ کانگریس میں پارٹی کے نام پر مطلق العنانی کا دور دورہ ہے ، ڈکٹیٹر شپ شروع ہوگئی ہے۔ کابینہ کی توسیع کو ملتوی کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کی انسلٹ کی جارہی ہے۔ یہ جمہوریت کا خون ہے ، اس کے علاوہ کابینہ کی توسیع میں ہورہی تاخیر سے پارٹی کے سینئر اراکین بھی ناراض ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کے درمیان عدم اطمینان ظاہر کیاہے ۔ ہائی کمان سے راست تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کا بینہ کی توسیع پر زور دے رہے ہیں ۔سینئر قائدین نے فیصلہ کیا ہے کہ دوتین دنوں میں نئی دہلی جاکر ہائی کمان سے درخواست کریں گے کہ جلد از جلد کابینہ کی توسیع کی ہدایت جاری کریں۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اعلان کیا تھا کہ10یا12ستمبر کو کابینہ کی توسیع ہوگی ۔ سینئر قائدین یہ کہنے لگے ہیں کہ کابینہ کی توسیع کو بار بار ملتوی کئے جانے کی حکمت عملی سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ جے ڈی ایس کے دباؤ میں کانگریس توسیع میں تاخیر سے کام لے رہی ہے ۔ اس بات کی ہائی کمان سے شکایت کی جائے گی ۔ وزارت کے امیدواروں کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ضرور ہوا ہے ، انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کامسئلہ بھی ہے ۔ لیکن کابینہ کی توسیع اورانتخابی ضابطہ اخلاق سے کوئی تعلق نہیں ہے ، کابینہ کی توسیع میں انتخابی ضابطہ اخلاق رکاوٹ نہیں بن سکتا ہے ۔ اس لئے توسیع کا کام جلد از جلد انجام دیا جائے۔ ورنہ بغاوت کی لہر دوڑ سکتی ہے۔ بغاوت کے امکان کو ہوا دینے کی کوشش نہ کریں ۔ اگر اب بغاوت کا پرچم بلند ہوا تو اس کار است اثر ضمنی انتخابات کے نتائج پر پڑسکتا ہے۔ دو دن قبل جے ڈی ایس کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا اور وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے کانگریس قائدین کو یہ پیغام روانہ کیا تھا کہ فی الحال کابینہ کی توسیع ممکن نہیں ہے ۔ان تمام وجوہات سے کابینہ کی توسیع میں تاخیر کا الزا م لگایا جارہاہے ۔ اس ناراضی اور بغاوت کی لہر پر قابو پانے کا چیلنج کانگریس قائدین کے سامنے ہے۔ آئندہ دنوں میں کانگریس اراکین اسمبلی کی ناراضی کو نسی کروٹ لے گی ، آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔