بنگلورو،3؍جولائی(ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ 10جولائی تک ریاست کے کاویری طاس سے وابستہ منتخب نمائندوں کا ایک اجلاس طلب کیا جائے گا ۔ جس میں کاویری آبی تنازعے اور مرکزی حکومت کی طرف سے کاویری نگرانی بورڈ کی تشکیل کرکے کرناٹک کے ساتھ کی گئی ناانصافی کے متعلق تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
مسٹر شیوکمار نے کہاکہ 6سے 10 جولائی تک وہ اس علاقے کے منتخب نمائندوں سے انفرادی بات چیت کریں گے اور 10 جولائی کی میٹنگ میں اتفاق رائے سے قرار داد منظور کی جائے گی۔ آج کاویری نگرانی بورڈ کی میٹنگ کے متعلق وزیر موصوف نے کہاکہ اس میٹنگ میں کرناٹک کی طرف سے ریاست کے موقف کی نمائندگی کی گئی ہے۔ میٹنگ کے دوران بھی کرناٹک نے یہ واضح کیا ہے کہ ریاستی حکومت ریاست کے مفادات کی حفاظت کی پابند ہے۔
ریاست کے کسانوں کو آسانی فراہم کرنے کے تئیں حکومت کے عزم کو دہراتے ہوئے مسٹر شیوکمار نے کہاکہ میٹنگ میں شریک سرکاری افسروں نے دو ٹوک کیا ہے کہ کرناٹک کے مفادات کو قربان کرتے ہوئے کسی اور ریاست کو پانی فراہم کرنے کے متعلق نگرانی بورڈ کے کسی بھی حکم کی تعمیل نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کاویری طاس میں آباد کسانوں کی کاشتکاری ضروریات پر منتخب نمائندوں سے تبادلۂ خیال کے بعد ریاستی حکومت اس معاملے میں اپنا موقف وضع کرے گی اور اس سے مرکزی حکومت اور کاویری نگرانی بورڈ کو آگاہ کرانے کے ساتھ کاویری تنازعے پر کرناٹک کی طرف سے قانونی جنگ کو جاری رکھا جائے گا۔