کرنال ،8؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مظفر نگر میں یوگی سرکار کے ہوش اڑادینے کے بعد منگل کو کسانوں نے کرنال میں ہریانہ کی بی جےپی حکومت کو بھی ناکوں چنے چبوا دیئے۔ 28؍ اگست کو کسانوں پر پولیس کی وحشیانہ لاٹھی چارج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کسان دفعہ 144؍ نافذ ہونے کے باوجود نہ صرف اناج منڈی پر مہا پنچایت کیلئے اکٹھا ہوئے بلکہ یکے بعد دیگرے پولیس کے ۶؍ بیریکیڈ توڑتے ہوئے منی سیکریٹریٹ تک پہنچ کر اس کا گھیراؤ بھی کیا۔
ٍ اس سے قبل کسانوں کو احتجاج اور خاص طور سے منی سیکریٹریٹ کے گھیراؤ سے روکنے کیلئے کسان لیڈروںکے۱۱؍ رکنی وفد سے انتظامیہ نے بات چیت کی مگر یہ بات چیت بھی ناکام ہوجانے کے بعد کسانوں نے ہزاروں کی تعداد میں منی سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کردیا جس کے بعد پولیس اور انتظامیہ دونوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ پولیس نے انہیں پانی کی توپوں سے روکنے کی کوشش کی مگر کسان لیڈروں نے کرنال سیکریٹریٹ کے باہر ہی خیمے گاڑ کر وہیں قیام کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ کسان لیڈر یوگیندر یادو نے بتایا ہے کہ ’’منی سیکریٹریٹ کا گھیراؤ شروع ہوگیاہے، یہ پرامن رہےگا۔‘‘
اس سے قبل انتظامیہ نے راکیش ٹکیت، یوگیندر یادو اور گرنام سنگھ چڈونی سمیت اہم کسان لیڈروں کو گرفتار کرکے مظاہرین کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہی۔ کسان پولیس کے ذریعہ لگائے گئے 18؍ میں سے چوتھے ناکہ کو ہی پارکرپائے تھے کہ کسان لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا۔ بہرحال کچھ ہی دیر میں انہیں چھوڑدیا گیا۔کسان گزشتہ 28؍ اگست کوہوئے پولیس لاٹھی چارج میں ایک کسان کی موت پر 25؍ لاکھ روپے کا معاوضہ،گھر کے ایک فرد کو ملازمت ،زخمیوں کو 2۔2؍لاکھ روپے اور ’’کسانوں کےسَر پھوڑ دینے ‘‘کا حکم دینے والے ایس ڈی ایم کی معطلی نیزگرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں۔ یہ لاٹھی چارج وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی میٹنگ والے دن بستارا ٹول پر ہوا تھا۔اُدھر منگل کو حکام نے کرنال، پانی پت ،کیتھل ،کوروکشیتراور جِند میں انٹر نیٹ خدمات بند کردی ہیں۔