ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک کے وزیر اور بی جے پی کے لیڈر ایشورپا کے خلاف بنگلور کی عدالت نے جاری کیا ایف آئی آر درج کرنے کا حکم

کرناٹک کے وزیر اور بی جے پی کے لیڈر ایشورپا کے خلاف بنگلور کی عدالت نے جاری کیا ایف آئی آر درج کرنے کا حکم

Fri, 01 Apr 2022 08:57:31    S.O. News Service

بنگلورو،یکم اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) مسلمانوں کے خلاف متنازع بیانات کے ساتھ ساتھ   شموگہ  میں  امتناعی احکامات    کی خلاف ورزی کرنے والے کرناٹک رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایت راج وزیر اور بی جے پی کے اہم لیڈر کے ایس ایشورپا  کے خلاف بنگلورو کی 42 اے سی ایم ایم کورٹ نے شیموگہ پولس کو حکم دیا ہے کہ وہ  ان کے خلاف  ایف آئی آر درج کرے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں شہر شیموگہ میں بجرنگ دل کارکن ہرشا کے قتل کے بعد ایشورپا نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دئے تھے  اور مبینہ طور پر   ہندوؤں کو تشدد پر  اکُسانے  کی کوشش کی تھی، بتایا گیا تھا کہ  ایشورپا اور چن بسپا نامی بھاجپہ لیڈرنے ہرشا کے قتل کے بعد ہندؤں کو اُکساتے ہوئے پولس کی لاشیں بھی  گرانے کی بات کہی تھی۔

 فی الحال ان دونوں کو شموگہ میں ہوئے تشدد  کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بنگلور کی عدالت نے ڈوڈا پیٹے پولس تھانے کو حکم دیا ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرے۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ شموگہ  میں دفعہ  144 ہونے کے باوجود ایشورپا کی سرپرستی میں مقتول ہرشا    کی آخری رسومات  کے لئے   ریلی نکالی گئی تھی اور دفعہ 144 کی دھجیاں اُڑائی گئی تھی۔ مبینہ طور پر اس موقع پر  آخری رسومات میں شامل  شدت پسند تنظیموں کے کارکنان نے  مسلمانوں کے خلاف  اشتعال انگیز بیانات دے کر  غیر مسلمانوں کے جذبات بھڑکائے تھے جس کے نتیجے میں  شموگہ میں  مسلمانوں  کے مکانوں اور املاک  کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ تشدد کے واقعات میں  سینکڑوں دنگائیوں کی بھیڑ مسلم علاقوں میں گھُس گئی تھی ، مسلم گھروں اور دکانوں پر پتھر بازی اور آگ زنی کی گئی  تھی، اس دوران کئی مسلم خواتین اور بچے زخمی بھی  ہوئے تھے، کئی گاڑیوں کو نذرآتش کیا گیا تھا ، ایک مدرسہ اور مسجد کو  بھی نقصان پہنچایا گیا تھا ۔

معاملے کو لے کر یس آرگنائزیشن  کے صدر ریاض احمد نے ایشورپا  اور چن بسپا کے خلاف پولس میں شکایت  درج کرتے ہوئے ایف آئی آر کروانے کی کوشش کی ۔لیکن پولس نے ایف آئ آر کرنے سے صاف انکار کردیا ۔جب درخواست گزار ریاض احمد نے موقع کی تمام ویڈیوز و دیگر ڈاکیومنٹس ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے پولس سے پرزور مطالبہ کیا تو پولس نے ایف آئی آر اس شرط پر درج کرنے کی بات کہی کہ کمپلینٹ کاپی سے ایم ایل اے ایشورپا کا نام ہٹا یا جائے۔حالات کی سنجیدگی، پولس کا رویہ اور ڈپارٹمنٹ کے اندر ایم ایل اے کے دبدبے کو محسوس کرتے ہوئے درخواست گزار ریاض احمد نے  عدالت کا رُخ کیااور  بینگلور کے 4 سنئیر ایڈوکیٹس ہری رام، جگناتھ ، کاشی ناتھ اور رمیشپا نے وکالت کرتے ہوئے عدالت کے آگے تمام شواہد پیش کئے۔

 عدالت نے تمام پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے شیموگہ پولس کو اب  ایشورپا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔


Share: