ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک انتخابات: بھٹکل میں جے ڈی ایس کا صرف مسلم اُمیدوار کو نشانہ بنانے کے پیچھے کیا راز کارفرما ہے ؟مقامی کنڑا اخبار کا سوال

کرناٹک انتخابات: بھٹکل میں جے ڈی ایس کا صرف مسلم اُمیدوار کو نشانہ بنانے کے پیچھے کیا راز کارفرما ہے ؟مقامی کنڑا اخبار کا سوال

Sun, 29 Apr 2018 00:46:15    S.O. News Service

بھٹکل:29/اپریل (ایس او نیوز)جے ڈی ایس صدر عنایت اللہ شاہ بندری جیسے ہی انتخابی اکھاڑے سے  پیچھے ہٹے تو جے ڈی ایس کے لیڈران نے تنظیم اور کانگریس کو جھٹکا دینے کےلئے تنظیم کے ہی ممبر کو جے ڈی ایس امیدوار کے طور پر میدان میں اتارنے کی پالیسی اپنائی مگر وہ بری طرح ناکام ہوگئی۔اب ایسا لگ رہا ہے کہ  پھر ایک بار جےڈی ایس بھٹکل میں نئے طریقہ کار اپنانے کے چکر میں ہے۔

کاروار سے شائع ہونے والے ایک کنڑا روزنامہ نے اس تعلق سے سوال اُٹھایا ہے کہ تنظیم کی جانب سے جے  ڈی ایس کو حمایت نہ ملنے کا صاف اشارہ ملنے کے بائوجود  آخر جے ڈی ایس صرف اقلیتوں  اور اُس میں بھی تنظیم کے رکن انتظامیہ کو ہی میدان میں کیوں اُتارنے کی کوشش کی  ؟

رپورٹ پر بھروسہ کریں تو حلقہ میں جے ڈی ایس   کے لئے امیدوار نہ ہونےکی وجہ سے پارتی پیچیدگی کا شکار ہوگئی ہے۔ جےڈی ایس ،اپنی حیثیت اور شناخت کو باقی رکھنے کے لئے میدان میں موجود اب ایک اقلیتی طبقہ کے آزاد امیدوار عبدالرحمن ٹونکا کی حمایت کرنےکے چکر میں ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بتایا جارہا تھا کہ اس سلسلے میں اتوار کو جے ڈی ایس کے سپریمو ایچ ڈی دیوے گوڈا  بھٹکل آئیں گے اور  خود اپنی   زبانی عوام کو آزاد اُمیدوار کے حق میں حمایت کرنے کا اعلان کریں گے، مگر آخری لمحوں میں  دیوے گوڈا کا بھٹکل دورہ ملتوی ہوگیا ہے اور خبر ملی ہے کہ وہ کسی  کام کے لئے فوری طورپر دہلی جارہے ہیں۔

اقلیت ہی کیوں ؟

کنڑا اخبار کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ انتخابات کے دوران بھٹکل کا سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم نے  جے ڈی ایس امیدوار عنایت اللہ شاہ بندری کی کھلی حمایت کی تھی جس کی وجہ سے انہیں آسانی کے ساتھ ٹکٹ مل گیا تھا۔ مگر اس مرتبہ تنظیم کے لیڈران نے جے ڈی ایس صدر کمار سوامی کے روبرو حمایت کے متعلق واضح موقف اختیار نہ کرنے کی وجہ سے عنایت اللہ شاہ بندری کا مقابلہ کھٹائی میں پڑگیا تھا۔ عنایت اللہ کی انتخابی مقابلہ آرائی کو لے کر ایک ماہ پہلے ہی شکو ک و شبہات پائے جارہے تھے ، لیکن جے ڈی ایس لیڈران نے متبادل امیدوار کو لے کر کسی طرح کی کوشش ہی نہیں کی۔ اس کے عوض عنایت اللہ شاہ بندری کے قریبی جے ڈی ایس کے دو لیڈران نے عنایت اللہ کو تنظیم کی حمایت کے بغیر بھی میدان میں اتارنے کی کسرت جاری رکھی۔

اسی دوران ہائی کورٹ کے وکیل ناگیندر نائک  جے ڈی ایس کی امیدوار ی کے لئے آگے بڑھے،  لیکن جے ڈی ایس لیڈران نے ان کو ٹکٹ دینے کے لئے کسی طرح کی خاص توجہ نہیں دی  تو ناگیندر نائک نے بھی جے ڈی ایس کی ٹکٹ پر مقابلہ سے انکار کردیا۔ خود جے ڈی ایس پارٹی میں جے ڈی ایس لیڈران کے طریقہ کار اور پالیسی کو لے کر گرما گرم بحث جاری رہنے کی بات کہی جارہی ہے۔

کنڑا اخبار کی رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے پرچہ نامزدگی داخل کرنےکی آخری تاریخ قریب آتی گئی عنایت اللہ شاہ بندری اتنی ہی پارٹی سے  دور دورجاتے نظر آئے، لیکن جےڈی ایس لیڈران نے تنظیم کا پیچھا نہ چھوڑتے ہوئے اسی ادارہ کے رکن انتظامیہ  ایس ایم امجد کوامیدوار کے طورپرٹکٹ دلواتے ہوئے  پرچہ نامزدگی داخل کروایا اور پرچہ واپس نہ لینے  پرقائم  رکھنے  کے لئے  انہیں بھٹکل سے باہر لے گئے ،کہا جارہا تھا کہ اُنہیں   نامزدگی واپس لینےکی تاریخ ختم ہونےکے بعد واپس لایا جائے گا، مگر  یہ چال بھی الٹی پڑی  اور  راتوں رات بھٹکل پہنچے امجد تنظیم کی منشا کے مطابق اپنا پرچہ نامزدگی واپس لے کر انتخابی میدان سے جے ڈی ایس کو خالی کرادیا۔

اخبار نے سوال اُٹھایا ہے کہ جے ڈی ایس میں پچھلے کئی دہوں سے سرگرم رہنے والے  ایم ڈی نائک، ایشور نائک، کرشنانند پائی ، پانڈونائک، شنکر نائک کٹگار کوپا ، جی این گوڈا اور  حالیہ دنوں میں جے ڈی ایس میں شامل ہونے والے  شمبھوگوڈا کو کیوں امیدوار نہیں بنایا ؟آخر کن وجوہات کی بنا پر جے ڈی ایس لیڈران نے یہ فیصلہ کیا کہ تنظیم کی حمایت کے بغیر عنایت اللہ شاہ بندری اور ایس ایم امجد جے  ڈی ایس کے مضبوط اُمیدوار بن سکتے ہیں ؟ اور اب جے ڈی ایس کی طرف سے  چونکہ آزاد اُمیدوار کی حمایت کرنے کی بات سامنے آئی ہے آخبار نے پوچھا ہے کہ کیا   عبدالرحمن مضبوط امیدوار بن سکتے ہیں؟ اخبار نے یہ بھی سوال کیا ہے کہ کیا ناگیندرنائک سے امجد اور عبدالرحمن  مضبوط امیدوارتھے ؟۔

اخبار کا سوال ہے کہ تنظیم کی حمایت نہ ملنے کی بات معلوم ہونے کے بائوجود  تنظیم ممبرکو ہی جے ڈی ایس لیڈران باربار کیوں  کھینچ کر اُنہیں ہی  امیدوار بنانے کی کوشش کر رہے تھے؟  بقیہ طبقات کے سنئیر جے ڈی ایس لیڈران کو امیدواربنانے کا خیال کیوں نہیں آیا؟ آخر جے ڈی ایس  کرنا کیا چاہتے ہیں ؟ ان کا کیا مقصد ہے؟۔کیا ان سب کا جواب سرکٹ ہاؤس کے صحن میں موجود پیڑ پودے دیں گے!اس دوران پھر ایک بار اسی اقلیتی فرقہ کے ہوناور ٹونکا کے عبدالرحمن کو پھانسنے کی کوشش جاری رہنےکی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اخبار نے سوال اُٹھایا ہے کہ  آخر  یہ جے ڈی ایس کی یہ چال بھی کامیاب ہوگی یا کیا ہوگا یہ دیکھنا اب دلچسپ ہوگا۔


Share: