بنگلورو 27/ فروری (ایس او نیوز) گزشتہ دو مہینوں سے چل رہے حجاب تنازع اور اس سے مسلم طالبات و خواتین کو درپیش مشکلات کے خلاف خواتین اور جنسی اقلیت (ایل جی بی ٹی کمیونٹی) کےنمائندوں نے میجسٹک ریلوے اسٹیشن سے فریڈم پارک تک احتجاجی ریالی کا اہتمام کیا ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ میتریئی نے کہا کہ اسکول اور کالج کے طالب علموں کو آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ باحجاب مسلم لڑکیوں کو کالج میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے ۔ میڈیا والے طالبات اور اساتذہ کی طرف سے حجاب اتارنے کے مناظر کی ویڈیو بنا کر عام کرتے ہوئے غیر انسانی حرکت کر رہے ہیں ۔ یہ لوگ متاثرین کو ذلیل کر رہے ہیں ۔ اس پس منظر میں ریاست بھر سے سامنے آنے والے واقعات نے عوام کو خوف زدہ کردیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ باحجاب طالبات کو امتحانات دینے سے روکا جا رہا ہے ۔ ہماری مانگ ہے کہ بچوں کے مستقبل کو نظر میں رکھتے ہوئے انہیں امتحان میں شریک ہونے کی اجازت دی جائے یا پھر ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک امتحانات ملتوی کیے جائیں ۔ اس کے علاوہ طلبہ کو ہراساں کرنے والے میڈیا کے نمائندوں، پولیس اہلکاروں اور پھوٹ ڈالنے والی طاقتوں کے خلاف کڑی قانونی کارروائی کی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہم لوگ مسلم خواتین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں کیونکہ یہ آئین کی بالادستی ، خواتین کے بنیادی حق تعلیم، وقار اور خودداری کا معاملہ ہے ۔
اس احتجاجی ریالی میں سیکڑوں طالبات ، خواتین ، اساتذہ ، ماہرین تعلیم ، جنسی اقلیتوں کے نمائندے اور فنکاروں وغیرہ نے حصہ لیا ۔ مظاہرین نے اتحاد کی حمایت اور حکومت کی مخالفت میں نعرے بازی کی ۔