منگلورو،18/ مئی (ایس او نیوز) کرناٹک کے جنوبی کینرا اور ملناڈ علاقہ میں سمندری طوفان 'ٹاوکتے' کی وجہ سے تیز ہواؤں اور شدید بارش سے کم از کم 6 لوگوں کی موت ہوگئی۔ ایک افسوناک واقعہ میں منگلوروساحل سے دور مُلکی کے قریب سمندر کے بیچوں بیچ پیش آیا جس میں مینگلور ریفائنری کی ایک بوٹ جو چالیس دنوں سے سمندر کے بیچوں بیچ کام کررہی تھی، خراب موسم کے چلتے واپس کنارے آنے کےدوران طوفان میں گھر گئی اور بوٹ کسی چٹان سے ٹکران کے بعد سمندر میں ڈوبنے لگی۔ بتایا گیا ہے کہ جہاز پر نو لوگ بُری طرح پھنس گئے تھے، پھر خبر ملی کہ ایک شخص کی نعش برآمد ہوئی ہے، دو لوگ تیرتے ہوئے کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، باقی لوگ جہاز پر ہی پھنسے ہوئے ہیں۔
بعد میں خبر آئی کہ جہاز پر کام کرنے والے مزید ایک شخص کی نعش برآمد ہوئی ہے، اس طرح س بوٹ پر کام کرنے والے نو لوگوں میں سے دو لوگوں کے مرنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی اور تین لوگ لاپتہ بتائے گئے تھے جن کی شناخت چیف آفسر اشفاق علی خلپے، بوٹ ڈرائیور معین الدین حق اور ماہر تیراک (ڈائور) پون چند کٹوچ کی حیثیت سے کی گئی تھی۔ مگر انڈین کوسٹ گارڈس اور انڈین نیوی نے اپنا مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جہاز پر پھنسے تمام نو لوگوں کو بچالیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ لوگوں کو انڈین کوسٹ گارڈس جہاز کے ذریعے اور چار لوگوں کو انڈین نیوی کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچا لیا گیا ہے۔ اس بات کی بھی اطلاع دی گئی ہے کہ پورے چالیس گھنٹوں بعد ان لوگوں کو بچانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
ایک طرف تمام نو لوگوں کو بچانے کی بات کہی جارہی ہے تو وہیں دوسری طرف بتایا جارہا ہے کہ ڈوبنے والی مینگلور ریفائنری ایند پیٹروکیمکلس لمیٹیڈ (MRPL) کی بوٹ پڈوبدری کے کاڈی پٹنا ساحل کنارے پہنچ گئی ہے جس کو بچانے کا کام جاری ہے۔ اس ذرائع کے مطابق بوٹ پر موجود آٹھ لوگوں میں سے تین لوگ لائف جاکٹ کی مد د سے خود تیرتے ہوئے کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، دو لوگوں کی موت واقع ہوگئی جس میں ایک کی شناخت ہیمنتھ کی حیثیت سے کی گئی ہے، اب مزید تین لوگ کہاں ہے، اُن کا کچھ پتہ نہیں چلا ہے۔
یاد رہے کہ سمندر کے بیچوں بیچ کام کرنے والی یہ جہاز گذشتہ چالیس دنوں سے اپنے کام میں مصروف تھی، جس کے دوران طوفان آگیا تھا اور سنیچر کو بوٹ کے اندر پانی گھس جانے سے بوٹ سمندر میں ڈوبنے لگی تھی۔
ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر کے وی راجیندر نے بتایا کہ کشتی کورومنڈل پر سوار 9 لوگوں کو بچانے کی مہم کو انجام دینے کیلئے پیر کو ایک ہیلی کاپٹر کی خدمات حاصل کی گئی تھی اور ہندوستانی ساحلی محافظ دستہ اور ساحلی سکیورٹی پولیس کے جوان 6 میٹر کی اونچائی تک اٹھتی لہروں اور 25 میلی فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی طوفانی ہواؤں کے سبب فوری طور پر راحت اور بچاؤ مہم نہیں چلا سکے تھے۔ہندوستانی ساحلی محافظ کا جہاز آئی این ایس وراہ جائے وقوع سے محض 500 میٹر کی دوری پر پہنچ کر صورتحال پر قریب سے نظر رکھ رہا تھا مگر اونچی اُٹھتی لہروں کی وجہ سے بوٹ تک پہنچنا ممکن نہیں ہورہا تھا کافی کوششوں کے بعد انڈین کوسٹ گارڈ کی اسپیڈ بوٹ کے ذریعے پانچ لوگوں کو بچایا گیا پھر انڈین نیوی کی ہیلی کاپٹر کی مدد سے مزید چار لوگوں بھی بچالیا گیا۔ اس درمیان جنوبی کینرا، اڈپی اور شمالی کینرا میں بارش رک گئی ہے لیکن آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہیں۔
کرناٹک میں تاوکتے طوفان سے چھ لوگوں کی موت: کرناٹک میں تاوکتے طوفان اور اس کے نتیجے میں ہوئی طوفانی بارش سے 22 تعلقہ کے 121 گاوں، 333 مکانات، 2.87 ہیکٹر کھیتی باڑی، 104 بوٹس اور 644 الیکٹرک کھمبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ اس طوفان کے نتیجے میں 6 لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے اور 290 لوگوں کو راحتی کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے، اس بات کی اطلاع روینو منسٹر آر اشوک نے دی۔
اشوک نے بتایا کہ مینگلور کے قریب سمندر میں ایم آر پی ایل کا جو جہازڈوب گیا تھا، اس جہاز سے 20 ہزار لیٹر ڈیزل سمندر میں بہہ گیا ہے جس کو حفاظت کے ساتھ ٹھکانے لگانے کے احکامات دئے گئے ہیںَ۔ مزید بتایا کہ طوفان اور بارش سے جن 182 خاندانوں کو نقصان ہوا ہے ، اُن کو فوری طور پر دس دس ہزار روپئے تقسیم کرنے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مینگلور سمیت دکشن کنڑا میں 87 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جس میں 24 مکانات مکمل طور پر منہدم ہوگئے ہیں ا ور 63 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ حکومت پانچ لاکھ اور ایک لاکھ روپئے بالترتیب ان گھروالوں کو فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کرسکیں۔