مینگلور10اگست (ایس او نیوز): اگلے دنوں میں کسی کو بھی ہاتھ میں پکڑ کر یا جیب میں رکھ کر راشن کارڈ لےجانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ،کیونکہ اب راشن کارڈ ایک بینک اے ٹی ایم کارڈ کے جیسا بنے گا جسے پچھلی جیب کی بیگ میں ڈرائیونگ لائسنس ، اے ٹی ایم کارڈ کے پاس ہی رکھ سکیں گے۔ جی ، ہاں !ریاست کرناٹکا میں ایسا ہی ایک اسمارٹ کارڈ آئندہ دنوں میں جاری ہوگا۔ ملک میں پہلی مرتبہ کرناٹکا میں تجربہ کے طورپر جاری ہونے والے اسمارٹ راشن کارڈکے متعلق جانکاری غذائی اور شہری سپلائی کے وزیر یوٹی قادر نے دی ہے۔
مجوزہ راشن کارڈ ، آدھارکارڈ کی مانند ہوگا۔ نام، پتہ، خاندان کے ممبران کی تفصیل والے اوپری حصہ کو کاٹ کر گھر میں محفوظ کرسکتےہیں۔ کارڈ کا نچلا حصہ لامنیشن کرکے اپنی جیب میں بڑی آسانی سے رکھ سکتے ہیں۔ کارڈ کے ایک طرف مالک کانام ، فوٹو، بارکوڈ، کارڈ نمبر ہوگا تو دوسری جانب گھر کا پتہ ہوگا۔ اسمارٹ راشن کارڈ کے بارکوڈ کو کمپیوٹر یاموبائیل میں اسکیان کریں تو متعلقہ کارڈ کی تمام تفصیلات اسکرین پر ظاہر ہونگی۔ اس کے علی الرغم 161کو رابطہ کرکے راشن کارڈ کے 12نمبرات کو درج کرائیں تو غذائی اجناس ، مٹی تیل کا کوپن کوڈ کا مسیج موبائیل پر آئے گا۔ جن لوگوں کو اس کا استعمال ناممکن ہو گا وہ لوگ محکمہ غذائی اجناس کی طرف سے نشان کردہ پاس کے سنٹر سے بائیومیٹرک پر منحصر مفت کوپن حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے قبل اے پی ایل، بی پی ایل جیسی روایت نہیں رہے گی، آئندہ آدیتا کوٹومب(ترجیحی خاندان )یا انرہواد کوٹومب (غیر ترجیحی خاندان )نامی فصیح کنڑا زبان میں لکھے ہوئے کارڈ ہونگے۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ پورے ملک میں پہلا تجربہ کرناٹکا میں کیاجارہاہے۔ آئندہ سے درخواست دینے کے صرف 15دنوں میں راشن کارڈ رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعے گھر کے دروازے پرپہنچے گا۔ پاسپورٹ کی مانند آن لائن کے ذریعے بھی درخواست گزار اپنی تفصیلات دے سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ ، سکال منصوبے سے ملحق کئے جانے کی وجہ سے راشن کارڈ کی تقسیم کاری تیز تر ہونے کی بات یوٹی قادر نے بتائی۔