شیموگہ، 9؍ مارچ (ایس او نیوز) کرناٹک میں پچھلے چھ مہینوں کے دوران فرقہ وارانہ وارداتوں میں تقریباً 4 نوجوانوں کی موت ہوئی ان چاروں نوجوانوں کے قتل کے معاملات میں حکومت اور پولیس کا نظر یہ بالکل ہی الگ رہا۔
کہا جارہا ہے کہ سال 2021 کے ستمبر میں بیلگام کے ارباز نامی نوجوان کو سنگھ پریوار کے غنڈوں نے لوجہاد کے نام پر قتل کیا تھا، سمیر شاہ پور کو اسی سال جنوری میں قتل کیا گیا، اس کے بعد دلت نوجوان دنیش بیلتھنگڈی کو بھی قتل کیا گیا، مگر جب ہندوتوا کارکن ہرشا کا قتل ہوا تو حکومت حرکت میں آگئی۔
ابتدائی تین مقتول نوجوانوں کے قاتلوں کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ انہیں سنگھ پریوار یا بجرنگ دل کارکنوں نے قتل کیا تھا لیکن ان قتل کی وارداتوں کو انجام دینے والے ملزموں پر نہ تو یو اے پی اے لگایا گیا نہ ہی ان متقولوں کے لواحقین کو پھوٹی کوڑی معاوضے کے طور پر دی گئی لیکن جب ہر شا نامی نوجوان جس کے تعلق سے بتایا جاتا ہے کہ وہ خود بھی روڈی شیٹر تھا اور اسے تڑی پار بھی کیا گیا تھا، اس شخص کے قتل ہونے پر نہ صرف اس کی آخری رسومات پر ریاستی وزیر حاضر رہے بلکہ جلوس کا بھی اہتمام کیا گیا، اس دوران شموگہ میں تشدد تک پھوٹ پڑا۔ مگر یہاں گرفتار شدگان پر یو اے پی اے لگایا گیا، یہاں تک کہ ہرشا کے لواحقین کو سرکار کی طرف سے 25 لاکھ روپیوں کا معاوضہ بھی دیا گیا۔
شموگہ کے عوام کا کہنا ہے کہ ملزمین پر یو اے پی اے کی دفعات عائد کرکے ان پر زیادتی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے ملزمان کی زندگی تاریکی میں ڈوب رہی ہے۔
عوام کی مانیں تو مقتول ازباز ، سمیر شاہ پور اور دنیش نہ تو ملزمانہ پس منظر رکھتے تھے نہ ہی وہ جرم کی دنیا سے منسلک تھے باوجود اس کے ان کے قاتلوں پر نہ ہی یو اے پی اے لگایا ہے نہ ہی متقولوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا گیا ہے یہاں تک کہ ان کے گھر والوں کے ساتھ تعزیتی کلمات تک نہیں کئے گئے ہیں۔
عوام سوال اٹھارہے ہیں کہ کیا کرناٹک کی بی جے پی حکومت صرف ہندو شدت پسندوں کیلئے اور ہندو تنظیموں کی بقا کیلئے کام کرنے آئی ہے؟ کیا مسلموں اور دلتوں پر ظلم ہوگا تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ؟ عوام یہ بھی کہہ رہے کہ یہ سوالات میڈیا کے سامنے پوچھنے کے بجائے اگر مسلم تنظیمیں اور مسلمانوں کے ہمدرد عدالتوں میں سوالات اٹھانا شروع کریں اور عدالتوں سے انصاف طلب کرے تو ملت کو کچھ فائدہ ہوسکتا ہے ، ورنہ صرف مذمتی بیانات دے کر اپنے دامن کو جھاڑنے سے مسئلے حل ہونا تو دور، مسئلے دن بدن بڑھتے ہی رہیں گے۔