نئی دہلی، 10 دسمبر (آئی این ایس انڈیا) نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کا احتجاج مسلسل 15 ویں روز بھی جاری ہے۔ بدھ کے روز کسان رہنماؤں نے کسان کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے تحریک تیز کرنے کا انتباہی دیا۔اس کے بعد آج مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسانوں کے مفاد میں یہ قانون بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایم ایس پی پر تحریری یقین دہانی کرنے کے لئے تیار ہیں، کسان تنظیمیں حکومت کی تجویز پر غور کریں۔انہوں نے کہا کہ کسان سردی میں بیٹھے ہیں، یہ ہمارے لئے پریشانی کی بات ہے، حکومت ہر اعتراض پر بات چیت کے لئے تیار ہے، جب بھی کسان چاہتا ہے، ہم بحث کے لئے تیار ہیں۔وزیر زراعت نے کہاکہ ہم کسانوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے ان کے مشوروں کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ قوانین کو واپس لینے پر بضدہیں۔نریندر تومر نے کہاکہ زرعی بل کسان کی آزادی ہے،’ون نیشن ون مارکیٹ‘ کے ساتھ اب کسان اپنی فصل کہیں بھی، کسی کو اور کسی بھی قیمت پر بیچ سکتے ہیں، اب کسان بڑی فوڈ پروڈکشن کمپنیوں میں کسی پر انحصار کرنے کے بجائے شراکت دار کی حیثیت سے شامل ہوکر زیادہ منافع کمائے گا۔
کسان لیڈران نے بدھ کے روز حکومت کے نئے زرعی قوانین میں ترمیم کرنے کی حکومت کی تجویز کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس تحریک کو تیز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہفتے کے روز جے پور-دہلی اور دہلی-آگرہ ایکسپریس وے بند کردیں گے اور 14 دسمبر کو ملک گیر احتجاج کریں گے، جس سے یہ احتجاج تیز ہوگا۔