سرینگر، 12/ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کشمیر میں جمعرات کو بھی اسکول بند رہے اور گاڑیاں سڑکوں سے ندارد رہیں۔آرٹیکل 370 کے دفعات کو ختم کئے جانے کے 39 ویں دن بعد بھی کشمیر میں معمولات زندگی متاثر ہے۔وادی کے زیادہ تر علاقوں سے نقل و حرکت اور لوگوں کے جمع ہونے پر لگی پابندیوں کو ہٹا لیا گیا ہے۔حالانکہ حکام کے مطابق قانون ونظام کو قائم رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز اب بھی وہاں پر تعینات ہیں۔انہوں نے کہا کہ افسران موبائل مواصلات پر پابندیوں میں نرمی دینے اور وائس کال خدمات کو بحال کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ حالانکہ پوری وادی میں لینڈ لائن کام کر رہے ہیں لیکن موبائل پر صوتی کال صرف شمالی کشمیر کے کپواڑہ اور ہندواڑا پولیس علاقوں میں ہی ہو پا رہی ہیں۔ حکام نے کہا کہ وادی میں معمولات زندگی اب بھی متاثر ہے۔مارکیٹ اور دیگر تجارتی ادارے بند رہے اور سڑکوں سے گاڑیاں ندارد رہیں۔انٹرنیٹ خدمات مکمل طور پر بندہیں۔ اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے ریاستی حکومت کی کوششوں کا کوئی پھل نہیں نکلا کیونکہ سیکورٹی کے خدشات کی وجہ سے والدین بچوں کو گھر سے باہر نہیں بھیج رہے ہیں۔