کمٹہ:7؍ مارچ (ایس اؤ نیوز )پریش میستا موت معاملے میں بی جے پی کارکنان پر درج شدہ مقدمات کو واپس لئے بغیرکمٹہ کے رکن اسمبلی نے صرف اپنے اوپر عائد مقدمات کو واپس لینے کی بات سوشیل میڈیاکے ذریعے سامنے آرہی ہے ۔اس تعلق سے مقامی کنڑا اخبار کی رپورٹ پر بھروسہ کریں تو ایک آڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بی جےپی کارکنان، کمٹہ رکن اسمبلی پر الزام عائد کرتےہوئے انہیں آڑے ہاتھوں لیا ہے کہ انہوں نے صرف اپنا ہی کیس واپس لیا ہے ۔
ہوناور میں پریش میستا کی موت کو قتل کا نام دیتے ہوئے اترکنڑا ضلع بھر میں بی جےپی کارکنان نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔ اس دوران کمٹہ اور ہوناور میں سیکڑوں کارکنان کے خلاف پولس تھانوں میں کیس درج ہوئے تھے۔ ان میں سےکئی سارے بی جےپی کارکنان جیل جا کر بھی آئے۔ اسی جھمیلے میں مقامی رکن اسمبلی دنیکر شٹی کے خلاف بھی مقدمات درج ہوئے تھے۔ اس کے بعد پریش میستا کے موت کی جانچ کرنے والی سی بی آئی نے نےعدالت میں بی رپورٹ داخل کرتے ہوئے واضح کیا کہ پریش میستا کی موت قتل نہیں ہے۔ لیکن میستا کی نعش برآمد ہونے کے بعد جس طرح کے تشدد کے واقعات پیش آئے یہاں تک کہ ویسٹرن رینج آئی جی پی کی وین تک کو نذر آتش کردیا گیا، اُس موقع پر جتنے بھی کارکنان کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے، وہ سب آج بھی کمٹہ کی عدالت کے چکر کاٹ رہے ہیں۔
اب رکن اسمبلی دنیکر شٹی کی حمایت میں خوب محنت کرنے والے اور اُنہیں جیت دلانے میں اہم کردار ادا کرنے والے کارکنان پر درج مقدمات کو واپس کئے بغیر اپنے اختیارات کا استعمال کرتےہوئے افسران پر دباؤ بنا کر صرف اپنے اوپر درج کیس کو واپس لینے سے بی جے پی کارکنان نہ صرف ناراض ہیں بلکہ ان کےخلاف سخت ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2مارچ کو منعقدہ بی جےپی کی میٹنگ میں اسی معاملے کو لےکر بی جےپی کارکنان نے رکن اسمبلی کو آڑے ہاتھوں لیاہے۔ میٹنگ میں بی جےپی کارکنان نے راست رکن اسمبلی سے ’’اگر اس مرتبہ پارٹی تمہیں ٹکٹ دیتی ہے تو پھر ہم لوگ غیر جانبدارانہ رویہ اپنائیں گے‘‘ کہتے ہوئے رکن اسمبلی میں ڈر پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ ہم نے اس تعلق سے پارٹی لیڈران کو بھی صاف صاف کہتے ہوئے ضد پر اڑے ہیں کہ اگر حلقہ میں بی جےپی کے امیدوار جیت حاصل دلانا ہے تو پھر امیدوار کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اس طرح رکن اسمبلی کو آڑے ہاتھوں لینے والا آڈیو سوشیل میڈیا پر خوب وائر ل ہواہے۔ مجموعی طورپر انتخابات کے قریب ہوتے ہوتے پارٹی کا اندرونی خلفشار اپنے عروج پر ہے اور ظاہرکررہاہے کہ پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔