کمٹہ:23؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) جس وارڈ میں رائے دہندگان کے نام شامل تھے انہیں دوسرے وارڈ میں افسران کی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے شامل کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کمٹہ تعلقہ دیوگری مٹھ وارڈ کے 14امیدواروں نے انتخابات کا ہی بائیکاٹ کردیا اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پچھلے کئی برسوں سے دیوگری مٹھ گرام پنچایت حدود کے دیوگری مٹھ اور کڈیکوڑی ہرنیر دیہات کاالگ الگ وارڈ ہے۔ لیکن گزشتہ 2018کے ودھان سبھا انتخابات کے وقت دیوگری دیہات کے رائے دہندگان کو کڈیکوڑی ہرنیر وارڈس کی ووٹنگ لسٹ میں شامل کیاگیا تھا۔ 2015کے انتخابات میں دیوگری مٹھ وارڈ کی جانب سے 4امیدوار منتخب ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے افسران نے کہاتھا کہ رائے دہندگان کی فہرست پر نظر ثانی کے بعد بھی فہرست پہلے جیسی تھی ویسی ہی رہے گی۔ تو اس کے نتیجےمیں دیوگری وارڈ سے 4اور کڈیکوڑی ہرنیر وارڈ سے 2ممبران کو منتخب ہونا تھا۔ اسی گمان میں رائے دہندگان نے جب اپنا ووٹ استعمال کرنےکے لئے 22دسمبر کو پولنگ بوتھ پہنچے توافسران نے بتایا کہ قریب 290رائے دہندگان کے نام دیوگری کی فہرست میں شامل نہیں ہیں وہ کڈیکوڑی ہرنیر کی فہرست میں ہے ، آپ اسی وارڈ کے امیدواروں کو ووٹ دیں۔ اس بات پر ناراض رائےدہندگان نے افسران پر لاپرواہی کا الزام عائد کیا ہے اور نا انصافی کی بات کہتے ہوئے 14امیدواروں نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے تحصیلدار کو میمورنڈم سونپا ہے
افسران پرغفلت کا الزام :افسران پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے دوران اس طرح کی جانکاری دے سکتے تھے کہ دیوگری مٹھ دیہات کے نام کڈیکوڑی ہرنیر کی فہرست میں ہے ، پرچہ نامزدگی داخل کرنےکے وقت منہ بند کرکے بیٹھے افسران نے صرف اتنا کہا کہ 2015کی طرح ہی فہرست ہوگی۔ جب پولنگ کے دن ووٹرس اپنا ووٹ دینے کے لئے پولنگ بوتھ پہنچے تب افسران کہتے ہیں کہ تمہارا نام یہاں کڈیکوڑی ہرنیر کی فہرست میں درج ہے۔ افسران کی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے رائے دہندگان کے ساتھ دستوری سطح پر ناانصافی ہوئی ہے۔ اسی بات کو لے کر امیدوار کمار بھٹ، ناگپا ہریکانت، للتا روینیکر ، وینا درگیکر، ونیتا ہریکانت، ممتا نائک، سونل دیش بھنڈاری، ونایک نائک، وینکٹیش ہریکانت، بھاسکر ہریکانت، وشوناتھ ہریکانت، ناگیش نائک، ایشور ہریکانت، کیشوو امبیگانے افسران کے خلاف سخت اعتراض اور برہمی کا اظہارکیا ہے۔
علاقے کے دھاریشور جنتا ودیا لیا کے پولنگ بوتھ میں دیوگری مٹھ کے رائے دہندگان کانام ووٹنگ لسٹ میں درج نہ ہونے پر مشتعل ہوئے ووٹرس احتجاج کے لئے آگے بڑھے۔ جس کی وجہ سے قریب ایک گھنٹہ ووٹنگ کی کاروائی کو روکنا پڑا۔ اس کے بعد کمٹہ سی پی آئی پرمیشور گنگا، پی ایس آئی آنند مورتی ، اے سی ، تحصیلدار جائے وقوع پرپہنچ کر انہیں مطمئن کرنے کے بعد 30-8بجے کے قریب دوبارہ ووٹنگ شروع ہوئی۔
متعلقہ علاقےکے پولنگ بوتھ میں ماحول کو کشیدہ دیکھتے ہوئے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے اور پرامن ووٹنگ کے لئے موقع فراہم کرنے کی خاطر ایک پی ایس آئی، ایک اے ایس آئی اور ریزرو پولس کا ایک دستہ پولنگ بوتھ علاقے میں تعینات کیاگیا تھا۔
امیدوارعدالت میں : گزشتہ گرام پنچایت انتخابات میں دیوگری مٹھ کے مکینوں کا ووٹ 67/اے دیوگری مٹھ کے وارڈ میں ہی تھا۔ اس کے بعد ہوئے ودھان سبھا انتخابات کے دوران میں ان رائے دہندگان کو 68/اے کڈیکوڑی ہرنیر وارڈ میں شامل کئے تھے۔افسران نے کہاکہ رائے دہندگان کی فہرست پر نظر ثانی کرنے کے بعد بھی دیوگری مٹھ کے رائے دہندگان کے نام دیوگری مٹھ کے وارڈ میں ہی رہیں گے ۔ اب اپنی بات کو بدلتےہوئے رائے دہندگان کے ساتھ ناانصافی کئے جانےکے خلاف امیدواروں نے قانونی لڑائی کے لئے دھارواڑ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاہے۔
تحصیلدار کی وضاحت : کمٹہ کے تحصیلدار وی ایس کڈک باوی نے اس سلسلے میں وضاحت کرتےہوئےکہاکہ رائے دہندگان کی فہرست کی نظر ثانی کے بعد 31-08-2020کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ حتمی شکل دینے سےپہلے انہیں موقع تھا 26ستمبر 2020 کو فہرست تیار کی گئی تھی ، اس کے علاوہ جب وہ پرچہ نامزدگی داخل کررہے تھے تب بھی انہیں موقع تھا کہ وہ اس سلسلےمیں شکایت کرتے ، وہ بھی نہیں کئے۔ ہماری طرف سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔ کسی حال میں بھی ہم ووٹنگ کو روک نہیں سکتے کہتےہوئے ووٹنگ جاری رکھنےکی ہدایات دیں۔