بھٹکل:2؍ جنوری (ایس اؤ نیوز) بی جےپی اور اس کے لیڈران سمیت پالیسی کی زبردست حمایت کرنےو الے کنڑا روزنامہ ’وجئے وانی ‘ نے دوسرے دن بھی اپنے فرنٹ پیج پر بی جےپی کی مرکزی حکومت پر کڑی تنقید کرتےہوئے اپنی ہی پارٹی کے زیر اقتدار ریاست کرناٹکا کو نظر انداز کئے جانےکے متعلق رپورٹ شائع کی ہے۔ مسلسل دوسرے دن بی جے پی پر نشانہ لگاتے اخبار نے سرخیوں میں لکھا ہے کہ کرناٹک سے بی جے پی کے 25 ارکان پارلیمان ہونے کے باوجود مرکزی حکومت کرناٹک کو نظر انداز کررہی ہے۔
کرناٹک نظر انداز:وزیر اعظم نریندر مودی ٹمکور میں کسان سمان منصوبے کے دوسرے مرحلے کے اجرائی پروگرام میں شرکت کے لئے پہنچ رہے ہیں ایسے میں اپنی ہی پارٹی کی اقتدار والی حکومت سے سوتیلا سلوک کئے جانےکےمتعلق بحث بھی شروع ہوگئی ہے۔
اخبار کےمطابق ریاست سے بی جےپی کے 25ارکان پارلیمان کو منتخب کرنےکے باوجود فنڈ کی تقسیم میں نظر اندازی ، ریاست کی شکایات پر خاموشی ، سیلاب معاوضہ معاملے میں ان دیکھی، مہادائی تنازعہ میں گوا، مہاراشٹرا لابی کی حمایت سمیت بے شمار معاملات کنڑیگاس کے تحمل کا امتحان لے رہے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے غصہ پھوٹنے کے آثار نظر آرہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2018 کے ودھان سبھا اور 2019 کےلوک سبھا انتخابات کے موقع پر اس بات کا تذکرہ کیا گیا تھا کہ مرکز اور ریاست میں ایک ہی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو ترقی کا سیلاب آجائے گا۔ چونکہ پچھلے دو تین دہائیوں سے مرکزمیں اقتدار والی پارٹی ریاست میں اقتدار پر نہیں تھی اوراسی وجہ سے مرکز سے ریاست کو توقع کے مطابق امداد نہیں مل پارہی تھی۔ اسی لئے مرکز میں مودی اور ریاست میں یڈیورپا نامی نعرے کی ووٹروں نے حمایت کی جس کےنتیجےمیں بی جےپی سب سے زیادہ یعنی 105نشستوں پر جیت درج کرنے میں کامیاب رہی ۔
مخلوط حکومت گرنے کے بعد سنگین حالات میں بی ایس یڈیورپا نے اقتدار سنبھالاتو عوامی حمایت کے مطابق مرکزاور ریاست میں ایک ہی پارٹی کی حکومت بن گئی ۔ اس کے بعد ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جےپی نے ریکارڈ 12حلقوں سے جیت درج کی۔ اتنا زبردست اور بہتر مظاہرہ کرنےکے بعد بھی مودی حکومت ریاست کی مانگوں پر توجہ دینا تو دور کی بات، ان کی سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہے، یہی وجہ کہ نئے منصوبوں کے متعلق کوئی بھروسہ نہیں دیا جارہاہے۔ ریلوے اور زمینی نقل وحمل محکمہ کے ذریعے اونٹ کے منہ میں زیرہ کی مانند کچھ امداد کے سوا دیگر محکمہ جات کی طرف سے کوئی تعاون نہیں مل رہاہے۔ انتخابی تشہیر کے دوران بنگلورو میں وزیر اعظم مودی نے جو بھاشن دیا تھا اور جو باتیں کہی تھیں ابھی تک انہی کے پارٹی کے کانوں میں گونج رہی ہیں۔
بنگلورو کے تشہیری جلسہ میں وزیر اعظم مودی نے اس وقت کی کانگریس حکومت سے سوال کیا تھا کہ پچھلے ساڑھے چارسالوں میں مرکز سے آئی ہوئی امداد ابھی تک ریاستی عوام تک نہیں پہنچی ہے۔ اخبار کے مطابق مرکز میں جب کانگریس کی حکومت تھی تو ریاست کو 73،000کروڑ روپئے کی امداد ملتی تھی مگر بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد ریاست کو 2لاکھ کروڑ روپئے سے زائد کی امداد ملتی ہے، اخبار نے سوال کیا ہے کہ وہ رقم گئی کہاں ؟ اخبار کے مطابق کرناٹک میں اب بی جےپی کی ہی حکومت ہے ، اس کے باوجود اس کے حصہ کی امدادی رقم کے لئے بار بار اپیل کرنے کی نوبت آئی ہے۔ نریگا اور سیلاب معاوضہ کی رقم حاصل کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کرنی پڑرہی ہے۔ ایسے میں خصوصی پیکیج کی بات ہی کہاں ہے ۔
کوئی توجہ نہیں : ریاستی محکمہ معیشت کے افسران کا کہنا ہے کہ معاشی سطح کی مانگوں کے متعلق مرکز سے کوئی پوچھتا تک نہیں ۔ وہاں کیا ہورہاہے ہمیں پتہ نہیں چل رہاہے، ہماری ریاست میں حکومت کرنے والی پارٹی کو مرکز کے خلاف آواز اٹھانے کا موقع نہیں ہے ، جب کہ دیگر پارٹیوں کی اقتداروالی ریاستیں متحدہ طورپر مرکز پر دباؤ بنانے کی بات کہہ رہے ہیں۔
معاشی مندی کے چلتے مرکزکو ممکنہ سطح پر ٹیکس نہیں ملا ہوگا، لیکن اس کی بنا پر ریاستوں کو اندھیرے میں رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ آخر کار سب مل کر آواز اٹھائیں تو ایک قسط کی رقم موصول ہونے کی افسران نے جانکاری دی ہے۔
خطرہ درپیش ہے : جی ایس ٹی معاوضہ کی پہلی قسط منظور ہونے کی وجہ سے ڈسمبر تک کوئی مشکل نہیں تھی ، لیکن آئندہ کے معاشی منصوبہ جات کو انجام دینے کے لئے بقیہ رقم کی منظوری ضروری ہے ورنہ مشکلات میں اضافہ ہونے کا محکمہ معیشت کے ذرائع نے جانکاری دی ہے۔ شروع شروع میں ہر مہینہ مرکز سے رقم ادا ہوتی تھی، اس کے بعد دو تین مہینوں کے بعد ہونے لگی۔ اب درخواست دے کر دباؤ ڈال کر منظور کروانے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔
مہا دائی منصوبہ مہا ناٹک : مہا دائی اور کرشنا ندی کے منصوبہ جات کے نفاذ میں مرکزی حکومت ہی رکاوٹ بن گئی ہے۔ پانی کے استعمال کے متعلق اعلامیہ جاری کرنے کے بجائے ریاستوں کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں ریاست کے بی جے پی لیڈران پریشانی میں مبتلا ہیں۔
ریاست کی امیدیں : مرکز سے ٹیکس حصہ داری کے طورپر رواں معاشی سال میں ریاست کو 36،215کروڑروپئے اور 15،371کروڑ روپئے کی معاشی امداد کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اسی کے مطابق ریاستی حکومت اپنا بجٹ تیار کرتی ہے۔ مرکز سے حصہ داری کم ہوتی ہے تو ریاست کے لئے ضروری ہوگا کہ اپنے اخراجات کو کم کرے۔اخبار نے اندازہ ظاہر کیا کہ اس بار مرکز سے 5ہزارکروڑ روپئے کی مدد کم ملنے کا خدشہ ہے۔
سوال جن کے جواب نہیں ملے : 1۔سیلاب میں ہوئے نقصان 38ہزار کروڑ روپیوں میں اصولوں کےمطابق کم سے کم 3800 کروڑروپیوں کا معاوضہ ملنے کی امید تھی ۔ ابھی تک صرف 1200کروڑروپئے ہی دئیے گئے ہیں وہ بھی بروقت نہیں مل پائے۔ بقیہ رقم کی منظوری کا دور دور تک پتہ نہیں۔
2۔ سیلاب معاوضہ اصولوں میں شمار نہیں کئے گئے نقصانات کے معاوضہ کے لئے پیش کش کی گئی تھی۔ باغبانی فصل، بنیادی سہولیات وغیرہ کے لئے 10ہزار کروڑ روپیوں کا اندازلگایاگیا تھا۔ اس تعلق سے کوئی آواز تک نہیں ۔
3۔سال بہ سال تعلیمی بجٹ میں کمی کی جارہی ہے، گزشتہ برس بچوں کو دوسران یونیفام مہیا کرنا ممکن نہیں ہوا، امسال اسکولی عمارات کی درستی کے لئے بجٹ کی کمی ہے۔
4۔ نریگا منصوبے کے تحت دیہی علاقوں میں عوام کو روزگار فراہم کئے جانے پر ابھی 2000کروڑروپئے بقایہ ہے، ریاستی حکومت اس کو اپنے خزانے سے اداکرنے کے بعد مرکز سے موصول ہونے کے انتظارمیں ہے۔
5۔ ریاست کے باقی اور ادھورے آب پاشی منصوبہ جات کو مکمل کرنے کے لئے خصوصی امداد دینے کا مرکزی لیڈران نے ہی اعلان کیا تھا۔ مگرا ب درخواست دینے کے لئے بھی موقع نہیں دیا جارہاہے۔
6۔برائے نام نئے ریلوں کو ہری جھنڈی دکھائےجانے کے سوا ریلوے میں بنیادی سہولیات ، اعلان کردہ منصوبہ جات کے لئے امداد منظور نہیں کی گئی ہے۔ سب اربن منصوبہ بھی کیچوے کی چال میں ہے۔
7۔مرکزی حکومت کے مختلف منصوبوں کی شراکت داری میں کٹوتی کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت مجبوری میں اپنے خزانے سے جاری رکھنے کی وجہ سے کوئی نیا منصوبہ اعلان کرنا ممکن نہیں ہوپارہاہے۔
8۔بے تحاشہ بڑھتے ہوئے بنگلورو کے بنیادی سہولیات کی ترقی کے لئے مرکزی حکومت سے اضافی امداد کی امید لگائی گئی تھی ، انتخابات کے دوران اس کاوعدہ بھی کیا گیا تھا، لیکن اب وہ وعدہ صرف فہرست میں ہی ہے۔
9۔ زرعی اور آب پاشی منصوبہ جات میں حصہ داری کم کئے جانے کی وجہ سے ریاستی منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ رقم جٹانے میں ہورہی تکالیف کے پیش نظر منصوبہ جات بڑی آہستگی کے ساتھ جاری ہیں۔
10۔جب یو پی اے کی حکومت تھی تو جے نرم منصوبہ بھی تھا جس کے تحت شہری علاقوں کے ٹرافک شعبہ کو لگاتار رقم ملتی تھی ۔ اس منصوبے کے نتائج آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ متعلقہ منصوبے کو رد کئے جانےکی وجہ سے عوامی ٹرافک کی آمدنی میں بھاری کمی ہوئی ہے۔