نئی دہلی، یکم دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی حکومت نے منگل کے روز پارلیمنٹ میں اطلاع دی کہ 2020 میں 11716 کاروباریوں نے خودکشی کر لی۔ یہ تعداد 2019 کے مقابلہ 29 فیصد زیادہ ہے۔ ’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے مکمل ثبوت ہیں کہ 2020 یعنی کورونا بحران کے دوران کاروباریوں نے شعبہ زراعت سے وابستہ لوگوں سے زیادہ معاشی تناؤ اور بحران برداشت کیا۔
وزارت داخلہ نے این سی آر بی کی رپورٹ ’ایکسیڈنٹ اینڈ ان انڈیا‘ کے حوالہ سے اطلاع دی ہے کہ 2019 میں کاروبار وابستہ 9052 افراد نے خودکشی کی، وہیں 2020 میں 11716 لوگوں نے اپنی جان دی۔
این سی آر بی نے خودکشی کے معاملوں کو کیٹیگری میں تقسیم نہیں کیا۔ تاہم، حکومت کا کہنا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بیشتر خودکشی کرنے والے کاروباری ایم ایس ایم ای سیکٹر سے وابستہ تھے۔
این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق 2020 میں 11716 کاروباریوں نے خودکشی کی، جبکہ اسی اثنا میں 10677 کسانوں نے بھی خودکشی کی۔ 2015 سے موازنہ کریں تو اس وقت ایک کاروباری پر 1.44 کسانوں نے خودکشی کی تھی لیکن 2020 میں ہر کسان پر 10.1 کاروباری نے خودکشی کی تھی۔
کاروباریوں کی خودکشی کی شرح میں اس سال 29.4 فیصد جبکہ زراعت کے شعبہ سے وابستہ لوگوں کی خودکشی کی شرح میں 3.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم ماہرین اس ڈیٹا کو درست قرار نہیں دے رہے۔ دراصل شعبہ زراعت سے وابستہ خواتین کی خودکشی کو خاتون خانہ کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں کاروباری خودکشیوں میں سے 4226 وینڈروں، 4356 کاروباری اور 3134 دیگر تجارتی سرگرمیووں سے وابستہ لوگوں نے خودکشی کی۔
تشویش ناک بات یہ ہے کہ کورونا کی دوسری لہر میں لوگوں پر اور بھی زیادہ اثر پڑا ہے۔ ایسے حالت میں 2021 کے اعداد و شمار بھی اسی طرح کے ہو سکتے ہیں۔