بنگلورو،14؍اگست (ایس او نیوز) کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسوراج بومئی نے بچوں پر کووڈ کے اثرات کے حوالے سے جمعہ کو ماہرین کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی۔ بومئی نے کہا کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچے ممکنہ طور پرکووڈ وبائی مرض کی تیسری لہر کے دوران متاثر ہوں گے، کیونکہ ان کا تعلق غیر ویکسین والے گروپ سے ہے جس کے نتیجے میں ریاستی حکومت نے بچوں کی مکمل نگرانی کیلئے اڈپی اور ہاویری اضلاع میں وتسلیہ اسکیم شروع کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان کی غذائیت کی طاقت کو جانچنے کیلئے بچوں کی صحت کے کیمپوں کا اہتمام کریں گے، اور غذائیت کی کمی اور نشوونما کیلئے تمام ضروری علاج کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اسکیم پر کام کرنے والے تمام متعلقہ افسروں کو تربیت فراہم کی ہے، اور بچوں کو اس وائرس سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ تمام ضلعی اسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیڈیاٹرک آئی سی یو کا انتظام کریں۔یہ میٹنگ اس اطلاع کے بعد ہوئی ہے جب بنگلورو مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) نے کہا کہ یکم اگست سے 11 اگست تک 543 بچے کووڈمتاثرپائے گئے ہیں۔متاثرہ بچوں میں سے 210 بچے 9 سال کی عمر کے تھے، اور 333 بچوں یا نوعمروں کا تعلق 10-19 سال کے گروپ سے تھا۔تاہم 19 کی عمر کے گروپ میں کسی بھی بچہ سے متعلق موت کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور متاثرہ بچے زیادہ تر غیر علامات والے تھے یا وائرس کی ہلکی علامات تھیں۔دریں اثنا، کرناٹک حکومت نے 9/ اگست سے 12 ویں (II PUC) کے طلباء کیلئے کالج 23 اگست سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ کلاسز متبادل دنوں میں منعقد کی جائیں گی اور تفصیلات جلد دی جائیں گی۔