ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کوروناوائرس:بھٹکل کے مسلمانوں کے خلاف ’کنڑا ٹی وی‘کا جھوٹا پروپگنڈا۔’آلٹ نیو ز‘نے کیا بھانڈا پھوڑ

کوروناوائرس:بھٹکل کے مسلمانوں کے خلاف ’کنڑا ٹی وی‘کا جھوٹا پروپگنڈا۔’آلٹ نیو ز‘نے کیا بھانڈا پھوڑ

Tue, 17 Mar 2020 15:29:13    S.O. News Service

بھٹکل 17/مارچ (ایس او نیوز) پچھلے دوچار دن قبل کنڑا نیوز چینل ’پبلک ٹی وی‘ نے ایک بریکنگ نیوز نشر کی تھی جس میں بھٹکل کے مسلمانوں کو نشانہ بناکر جھوٹا پروپگنڈا کیا گیا تھا کہ یہاں کے چار نوجوانوں نے دبئی سے لوٹنے کے بعد کورونا وائرس کی جانچ کرنے میں تعاون نہیں کیااور محکمہ صحت کے افسران کو یہ کہتے ہوئے واپس جانے پر مجبور کیاکہ ہمارے مذہب میں خون کی جانچ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

 یہ خبر ٹی وی کے علاوہ سوشیل میڈیا پربھی وائرل ہوگئی۔ اس کے علاوہ ہندوتوابریگیڈ کے حامی ’مائی نیشن‘ چینل اور ’اوپ انڈیاڈاٹ کام‘ نامی ویب سائٹ نے بھی اسے آگے بڑھایا۔ بھگوا وادی ویب سائٹ ’پوسٹ کارڈ‘ کے مہیش ہیگڈے اور کنچن گپتا وغیرہ نے بھی بغیر کسی حوالے کے اس نیوز کو ٹویٹ کیا۔اورہر کسی نے اس انداز میں پیش کیا کہ اس نیوز پرہرجگہ بھٹکل اور مسلمانوں کے خلاف بہت ہی بدترین قسم کے کمینٹس کی باڑھ لگ گئی۔ دوسری طرف معلوم ہوا ہے کہ کاروار میں موجود پبلک ٹی وی کے رپورٹر کوبھٹکل سے بذریعہ فون کچھ لوگوں نے آڑے ہاتھوں لیا مگر وہ رپورٹر اپنی رپورٹ سچی ہونے کی بات پر اڑا رہا جبکہ محکمہ صحت کے افسران، ضلع اُتر کنڑا کے ڈپٹی کمشنر  سمیت بھٹکل  اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی وائی ایس پی نے بھٹکل میں کورونا وائرس سے متاثرہ یا مشکوک کوئی بھی کیس ہونے سے انکار کردیا تھا۔

’آلٹ نیوز‘نے کی تحقیق:    اب نیشنل سطح پر جھوٹی خبروں کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے معروف ویب سائٹس میں سے ایک ویب سائٹ ’آلٹ نیوز‘ نے پبلک ٹی وی کے جھوٹے پروپگنڈے کا پردہ فاش کرنے والی ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ پبلک ٹی وی کے اینکر نے دعویٰ کیا ہے کہ سلطان اسٹریٹ کے  چار نوجوانوں نے بیرونی ملک سے لوٹنے کے بعد محکمہ صحت کے افسران کو طبی جانچ کرنے کا موقع نہیں دیااور اس کے لئے اپنے مذہب میں اس طرح کی جانچ کے لئے اجازت نہ ہونے کاعذر پیش کیا ۔ چینل نے ایک مقامی شخص کے بیان کو(قارئین کو بتادیں کہ وہ شخص شاید کاروار کا ہی ہے، بھٹکل کا نہیں ہے) اپنی رپورٹ کی بنیاد بنایا ہے، اور کہا ہے کہ ان لوگوں کو حراست میں لیا جانا چاہیے۔

 نیوز اینکر کی شرارت:    آلٹ نیوز نے واضح کیا ہے کہ نشر کی گئی نیوز میں محکمہ صحت یا کسی بھی سرکاری افسر کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔ بلکہ پوری خبر غیر تصدیق شدہ ذرائع پر مبنی ہے۔ اور اس میں ’مذہبی رکاوٹ‘ کے زاویے کو نیوز میں خود اینکر نے اپنی طرف سے شامل کیا ہے۔ کیونکہ جس مقامی شخص کو نیوز کا ذریعہ بنایا گیا ہے اس نے بھی اپنے بیان میں ’مذہبی شناخت‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے۔

ساحل آن لائن کلپ کا حوالہ:    دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ پبلک ٹی وی کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے آلٹ نیوز نے ’ساحل آن لائن‘ کی ویڈیو کلپ کا حوالہ دیا ہے جو بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی وائی ایس پی کی مشترکہ پریس کانفرنس کی رپورٹ پر مبنی ہے اور اس میں ان دو بڑے افسران نے واضح کیا ہے کہ بھٹکل میں کوئی بھی کورونا وائرس سے متاثرہ یامشکوک شخص موجود نہیں ہے۔اور افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

 ڈپٹی کمشنر نے کی تردید:    آلٹ نیوز نے ضلع شمالی کینرا کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار سے تصدیق کرلی ہے کہ دبئی سے لوٹنے اور پھر محکمہ صحت کے افسران کو جانچ سے روکنے کا کوئی واقعہ ضلع میں پیش نہیں آیا ہے۔ البتہ بیرونی ممالک سے لوٹنے والوں کی طبی جانچ کا سلسلہ جاری ہے اور عوام پوری طرح تعاون کررہے ہیں۔ڈی سی نے بتایا کہ: ”گزشتہ 20دنوں کے دوران جو کوئی بھی بیرونی ملک سے ضلع میں آیا ہے، اس کو اپنے گھرمیں ہی زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔ محکمہ صحت کا عملہ روزانہ ان کے جسمانی درجہ حرارت اور دیگر علامات کی جانچ کررہا ہے۔“

 عوام کو اعتراض ہے:    ڈپٹی کمشنر نے آلٹ نیوز کو بتایا کہ ”بعض جگہ عوام کا اصرار ہوتا ہے کہ بیرونی ملک سے لوٹنے والا شاید کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کے رابطے میں رہا ہوگا، اس لئے اسے عوام کے درمیان رکھ کر مزید لوگوں کو متاثر کرنے کا موقع دینے کے بجائے ایسے لوگوں کو سیدھے اسپتال میں ہی منتقل کیا جانا چاہیے۔“

 کوئی فرقہ وارانہ رنگ نہیں ہے:    ڈپٹی کمشنر نے صاف طور پر بتایا کہ ”مجھے نیم طبی عملہ یا محکمہ صحت کے افسران سے اب تک ایسے کسی بھی واقعے کی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے جہاں پر کسی نے مذہبی بنیادوں پر اپنی جانچ کروانے سے انکار کیا ہو۔عوام پوری طرح تعاون کررہے ہیں اور ایک ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کی حیثیت سے میں بتانا چاہوں گا کہ اس میں کوئی فرقہ وارانہ رنگ پیدا نہیں ہوا ہے۔“

 اے سی نے بھی کی تردید:    جب آلٹ نیو ز کے نمائندے نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنرایس بھرت سے بات چیت کی تو انہوں نے بتایا کہ سوشیل میڈیا میں چل رہی ویڈیوانہوں نے دیکھی ہے۔ اور یہ ایک بالکل جھوٹی خبر ہے۔ اے سی نے واضح کیا کہ”میں نے طبی جانچ کے لئے مذہبی بنیاد اعتراض کیے جانے کی کوئی بات ابھی تک نہیں سنی ہے۔“ 

 کیا کہتے ہیں تنظیم کے صدر:    آلٹ نیوز کا کہنا ہے کہ تفتیش کے لئے اس کے نمائندے نے مجلس اصلاح و تنظیم کے صد ر سید پرویز سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ بیرونی ممالک کے دورے سے لوٹنے والے افراد پر طبی نظر رکھنے کے لئے ضلع انتظامیہ کے ساتھ پوری طرح تعاون کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ”محکمہ صحت والے یہاں کے غیر سرکاری اداروں کے اشتراک سے کام کررہے ہیں۔ہمیں بیرونی ممالک سے لوٹنے والے افراد کی فہرست فراہم کی گئی ہے۔ہم ان تمام لوگوں کی جانچ کررہے ہیں۔ 

 ایک مقام پر ہوئی تھی رکاوٹ:    آلٹ نیوز کی اسٹوری کے مطابق جناب سید پرویز نے اس کے نمائندے کو بتایاکہ:”ہم لوگ ایک گھر پر گئے ہوئے تھے جہاں کوئی بیرونی ملک سے لوٹا ہوا شخص موجود نہیں تھا، لیکن بیرونی ملک سے لوٹے ہوئے فرد کے رشتے دار موجود تھے۔وہ لوگ جانچ کروانے کے لئے آسانی سے راضی نہیں ہوئے تھے کیونکہ انہیں پتہ نہیں تھا کہ ان کی جانچ کس لئے ضروری ہے۔پھرجب انہیں اس کی ضرورت اور اہمیت سمجھائی گئی تو ان لوگوں نے طبی جانچ میں تعاون کیا۔“ 

 سید پرویز صاحب نے مزید واضح کیا کہ ان کا اپنا گھر سلطان اسٹریٹ میں ہے اور وہاں پر ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ”مخدوم کالونی میں کچھ بیرونی ملک سے واپس لوٹنے والے موجود تھے اور ان سب نے طبی جانچ میں پوری طرح تعاون کیا۔ بھٹکل میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے“

 خبر پوری طرح بے بنیا د ہے:    اسی طرح آلٹ نیوز کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس نے کئی دوسرے افسران اور محکمہ جات سے رابطہ قائم کرکے پبلک ٹی وی کی اس نیوز کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ یہ پوری طرح جھوٹ اور بے بنیا دخبر ہے۔ ساتھ ہی پولیس اور تعلقہ انتظامیہ کی طرف سے افواہیں  پھیلانے والوں کو خبردار کیے جانے کے بعد بھی ’اوپ انڈیا‘ اور‘مائی نیشن‘ والوں نے اس غلط خبر کو پھیلایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی مہم چلائی۔آلٹ نیوز نے واضح کیا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ’پبلک ٹی وی‘،’اوپ انڈیا‘اور’مائی نیشن‘نے جھوٹی خبریں عام کرنے کی حرکت کی ہو۔یعنی گمراہ کن خبریں عام کرنا ان کا روز کا مشغلہ ہے۔


Share: