نئی دہلی 27 اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) عدالت عظمیٰ نے کٹھوعہ اجتماعی عصمت دری اور قتل کیس کی سماعت آج سات مئی تک کے لیے روک دی ہے ۔ اس سے پہلے کورٹ نے اس معاملے کو چندی گڑھ منتقل کرنے اور اس سانحہ کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کے لیے دائر دو درخواستوں پر غور کیا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس دھننجے وائی چندرچوڈ اور جسٹس اندو ملہوترا کے تین رکنی بنچ نے کہا کہ اس معاملہ کو چندی گڑھ منتقل کرنے کے لئے متاثرہ کے والد کی درخواست اور سارے معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کے لیے ملزمان کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔ عدالت نے ان دونوں درخواستوں کو سات مئی کو سماعت کے لیے درج کیا ہے ۔اس معاملہ میں سماعت کے دوران متاثرہ خاندان کی جانب سے پیش سینئر وکیل اندرا جے سنگھ اور ملزمان کی جانب سے وکیل کے درمیان تیکھی نوک جھونک ہوئی۔ جے سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کٹھوعہ کی قربت اور مقامی عدالت میں وکلاء کی طرف سے پولیس اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اسے چندی گڑھ منتقل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے جج کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی ہے اور وکلاء نے کرائم برانچ کے حکام سے ہاتھا پائی کی تھی جو جموں کشمیر حکومت کے حلف نامے سے واضح ہے۔ دوسری طرف ہروندر چودھری نے کہا کہ ان کے موکلوں کا پولیس کی تحقیقات میں اعتماد نہیں ہے اور یہ معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو کے سپرد کیا جائے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس کی ملزمان کو جھوٹے الزام میں پھنسانے کے لیے کچھ مبینہ مفاد پرست عناصر کے ساتھ ملی بھگت ہے جبکہ اصلی مجرم تو کوئی اور ہی ہے۔ ریاستی حکومت کے اٹارنی جہانگیر اقبال گنئی اور وکیل شعیب عالم نے سی بی آئی جانچ کی مخالفت کی اور کہا کہ کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔گنئی نے کہا کہ مقدمہ کی سماعت کٹھوعہ اور جموں سے ریاست کے کسی دوسرے ضلع میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں 221 گواہ ہیں اور درج کئے زیادہ تر بیان اردو میں ہیں۔ عالم نے کہا کہ ریاستی حکومت کا اپنا تعزیراتی آ ئین ہے اور اگر مقدمہ چندی گڑھ کی عدالت میں بھیجا گیا تو اس سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ مرکز کی جانب سے اضافی سالسٹر جنرل منندر سنگھ نے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو حکومت کسی بھی طرح کی مدد کے لیے تیار ہے لیکن اس کی پہل تو جموں کشمیر حکومت کو ہی کرنا پڑے گا۔ خانہ بدوش اقلیتی برادری کی آٹھ سالہ بچی کو10 جنوری کو جموں علاقہ میں کٹھوعہ کے قریب گاؤں میں اپنے گھر کے قریب سے لاپتہ ہو گئی تھی، ایک ہفتے بعد اسی علاقے میں بچی کی خستہ لاش ملی تھی۔ عدالت عظمی نے کل ہی سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری اصل فکر معاملہ کی منصفانہ سماعت کو لے کر ہے اور اگر اس میں ذرا سی بھی کمی پائی گئی تو اس معاملے کو جموں کشمیر کی مقامی عدالت سے باہر منتقل کر دیا جائے گا۔ اس بچی کے والد نے اپنے خاندان، خاندان کے ایک دوست اور اپنی وکیل کی حفاظت کے تئیں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالت میں عرضی دائر کی تھی ۔ اس کے بعد عدالت نے ان تمام کو مناسب تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا تھا ۔ دریں اثنا، سانجھی رام سمیت دو ملزمان نے سارے معاملہ کی سی بی آئی سے جانچ کرانے اور اس کی سماعت جموں میں ہی کرانے کیلئے علیحدہ پٹیشن دائر کی تھی ۔