رام پور،20؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) اترپردیش کے امروہہ میں اپنی ہی فیملی کے7 / اراکین کا بے رحمی سے قتل کرنے والی شبنم نے ایک بار پھر رحم کی درخواست کی گہار لگائی ہے- شبنم کے دو وکیل جمعرات کو رام پور ضلع جیل پہنچے- یہاں انہوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو رحم کی اپیل کیلئے درخواست دی ہے-اطلاعات کے مطابق، جیل سپرنٹنڈنٹ اب ریاست کی گورنر کو رحم کی اپیل والی عرضی بھیجیں گے- واضح رہے کہ شبنم کی پہلی رحم کی درخواست صدر جمہوریہ مسترد کرچکے ہیں - اب گورنر کو شبنم کے وکیل پھر درخواست بھیج رہے ہیں - شبنم کی پھانسی کی سزا کو سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا-دوسری طرف، متھرا جیل میں شبنم کو پھانسی دینے کی تیاری چل رہی ہے- پون جلاد بھی دو بار متھرا جیل کے خاتون پھانسی مرکز کا معائنہ کرچکا ہے- معاملے میں متھرا جیل انتظامیہ کو بس اب شبنم کے ڈیتھ وارنٹ کا انتظار ہے-اس سے قبل شبنم کا بیٹا محمد تاج بھی اپنی ماں کیلئے معافی کی گہار لگا چکا ہے- شبنم کے12سال کے بیٹے تاج نے کہا ہے کہ راشٹرپتی چچا جی، میری ماں کو معاف کردو- غور طلب ہے کہ14 اپریل2008کی رات جب شبنم نے اپنے عاشق سلیم کے ساتھ مل کر اپنی فیملی کے7لوگوں کا قتل کردیا تھا، اس وقت وہ دو ماہ کی حاملہ تھی-
شبنم نے جیل میں ہی تاج کو جنم دیا تھا- شبنم کے دوست رہے عثمان سیفی نے تاج کو گود لے لیا تھا- آج تاج12سال کا ہے- اس نے جب ماں کو پھانسی دینے کی بات سنی تو صدر جمہوریہ سے معافی کی گہار لگائی ہے- بلند شہر میں بھوڑ چوراہے کے قریب سشیل وہار کالونی میں رہنے والے عثمان سیفی کے تحفظ میں پل بڑھ رہے تاج کو ماں کے گناہوں کا احساس ہے- عثمان سیفی نے بتایا کہ تاج نے قومی صدر سے ماں شبنم کو معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے-