نئی دہلی،17؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی پردیس کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار نے مرکز کی مودی حکومت اور دہلی کی کیجریوال حکومت کو تنہلی کی کیجریوال کی مودی رافلیا گیا ہے۔ اس تعلق سے رام مورت، سنیہی اور منجیت کو ے بعد تین ملزمین کو قید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ہی حکومتیں کورونا انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ خصوصی طور پر کیجریوال حکومت کی ناکامی کا تذکرہ کرتے ہوئے چودھری انل کمار نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے اور کووڈ-19 وبا کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی کی جانچ کرنے میں حکومت کے ذریعہ کی جا رہی ناکام کوششیں فکر انگیز ہیں۔
دہلی کانگریس کے صدر نے اپنے بیان میں وزیر صحت ستیندر جین کے ایک بیان کو لاپروائی پر مبنی اور حیرت انگیز ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر صحت نے آج ایک لاپرواہی بھرا بیان دیا ہے کہ دہلی میں کورونا کی تیسری لہر ختم ہو گئی۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ کیجریوال حکومت جھوٹی خبریں پھیلا کر اپنی ذمہ داریوں سے بچنا چاہتی ہے۔‘‘ چودھری انل نے کہا حقیقت یہ ہے کہ کووڈ-19 انفیکشن کا پھیلاؤ اب بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے چودھری انل کمار نے کہا کہ راجدھانی میں یکم سے 15 نومبر کے درمیان کووڈ سے مرنے والوں کی شرح میں 48 فیصد کا اضافہ ہوا، یعنی فی گھنٹہ 4 کورونا مریض کی موت ہو رہی ہے۔ 10 اکتوبر سے کورونا معاملوں کی تعداد لگاتار بڑھی اور ٹیسٹنگ اپنے پہلے کی سطح سے بھی کم ہو گیا۔ اس وقت ٹیسٹنگ کی تعداد بڑھانے کی ضرورت تھی جس پر عمل نہیں ہوا۔ حکومت کی نیند ایک مہینے بعد کھلی ہے، یہ پوری طرح سے ناکام کو ظاہر کرتا ہے۔ دہلی کانگریس کے صدر نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ کورونا ٹیسٹنگ کی فیس 2400 روپے سے کم کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیسٹ کرا سکیں اور کورونا انفیکشن کے پھیلاؤ کو قابو میں کیا جا سکے۔
چودھری انل کمار نے کہا کہ کووڈ کے ساتھ ساتھ راجدھانی دہلی میں عام مریضوں کے لیے بھی آئی سی یو بیڈ کی زبردست کمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں روزمرہ معاملوں اور اموات میں زبردست اضافہ کے درمیان کووڈ-19 مریضوں کے لیے اہم دیکھ بھال سہولتوں کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے، کیونکہ ونٹلیٹر کے ساتھ ساتھ تقریباً 88 فیصد آئی سی یو بیڈ پر کووڈ-19 مریض پہنچ چکے ہیں۔