نئی دہلی،3؍اکتور(ایس او نیوز؍یو این آئی) کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم نریندر مود ی کا نام لئے بغیر سخت حملہ کرتے ہوئے کہاکہ کوئی کتنابھی دکھاوا کرے اور خود کو بابا ئے قوم مہاتما گاندھی کے اصولوں کا پجاری ہونے کا دعویٰ کرے لیکن حقیقت یہی ہے کہ گاندھی جی کے خیالات پر کانگریس ہی چلی ہے اور آئندہ بھی چلے گی-
سونیا گاندھی نے چہارشنبہ کو مہاتما گاندھی کے150ویں یوم پیدائش پر پارٹی کی”سندیش یاترا“ سے یہاں راج گھاٹ پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ان دنوں خود کو”بھارت کا بھاگیہ ودھاتا“ سمجھنے والے لوگوں سے میں نرمی سے کہنا چاہتی ہوں کہ گاندھی جی نفرت کی نہیں محبت کی علامت تھے، تناؤ کی نہیں ہم آہنگی کی علامت تھے، وہ آمریت نہیں بلکہ جمہوریت کے علمبردار ہیں - کوئی کچھ بھی دکھاوا کرے، گاندھی جی کے اصولوں پر کانگریس ہی چلی ہے اور کانگریس ہی چلے گی-انہوں نے سندیش یاترا میں شامل لوگوں سے اپیل کی کہ ملک کے بنیادی اقدار کو بچانے، آئینی اداروں اور ہندوستان کی ملی جلی ثقافت اور شناخت کو قائم رکھنے کے لئے گاندھی جی کا پیغام ملک کے ہر کونے کے ہر گھر تک پہنچاناہے - ہندوستان کی بنیادی شناخت، ثقافتی تنوع، مساوات کے ورثہ اور ہم آہنگی کی ہر قیمت پر حفاظت کرنی ہے -سونیا گاندھی نے کہا کہ آج کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ گاندھی جی نہیں وہ خود ہندستان کی علامت بن جائیں - انہیں سمجھنا چاہئے کہ ہمارے ملک کی ملی جلی تہذیب ہے، ہمارے پاس مخلوط معاشرہ اور مخلوط ثقافت ہے اور گاندھی جی کے سب کو ساتھ لیکر چلنے کے نظام کے علاوہ کچھ اور نہیں سوچا جاسکتا-انہوں نے کہاکہ جو لوگ جھوٹ کی سیاست کرتے ہیں وہ کیسے سمجھیں گے کہ گاندھی جی سچ کے پجاری تھے - جنہیں اپنے اقتدار کے لئے سب کچھ کرنا منظور ہے وہ کیسے سمجھیں گے کہ گاندھی جی حق پرست تھے جن میں جمہوریت کی پوری طاقت مٹھی میں رکھنے کی پیاس ہے وہ کیا سمجھیں گے کہ گاندھی جی کا سوراج کا کیا مطلب ہے - جنہیں موقع ملتے ہی خود کوسب کچھ بتانے کی خواہش ہو وہ کیسے سمجھیں گے کہ بے لوث خدمت کی قیمت کیا ہوتی ہے -انہوں نے کہاکہ ملک ایسے عظیم شخص کا یوم پیدائش منا رہا ہے جنہوں نے نہ صرف ہندوستان کو بلکہ پوری دنیا کو سمت دی-آج ہی کے دن150برس پہلے ایسے عظیم شخص کی ہندوستان میں پیدائش ہوئی جنہوں نے پوری دنیا کو عدم تشدد کا اصول دیا- ہمیں فخر ہے کہ ہندوستان جہاں پہنچا ہے وہاں گاندھی جی کی وجہ سے پہنچا ہے -انہوں نے مودی کا نام بغیر ان پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ گاندھی کا نام لینا آسان ہے لیکن ان کے راستے پر چلنا آسان نہیں ہے - کچھ لوگ گاندھی جی کا نام لے کر ہندوستان کو ان کی بتائی راہ سے ہٹاکرا پنی سمت میں لے جانے کی کوشش کررہے ہیں - پہلے بھی ایسی کوششیں ہوئی ہیں لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں ”سا م دام دنڈ بھید“کا کھلا استعمال ہورہا ہے اور وہ خود کو بہت طاقتور سمجھ رہے ہیں -انہوں نے کہاکہ گاندھی نے ملک کے گاؤں کو خودکفیل بنانے کا اصول دیا تھا اور آزادی کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ کی قیادت والی کانگریس حکومتوں نے دن رات ان کے راستے پر چل کر ملک کو جدید بنایا- کانگریس حکومتوں نے ملک کے کسانوں کو مضبوط بنایا، خواتین، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے تعلیم کی بے مثال سہولت دی ہے -کانگریس کی‘سندیش پد یاترا’پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی کی قیادت میں یہاں کانگریس بھون سے ہوتے ہوئے راج گھاٹ تک پہنچی- اس یاترا میں بڑی تعداد میں کانگریس کارکن بینروں اور جھنڈوں کے ساتھ پہنچے اور گاندھی جی امر رہیں، راہل گاندھی جدوجہد کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں، جیسے نعرے لگاتے ہوئے راج گھاٹ پہنچے جہاں سونیا گاندھی نے یاترا میں شامل کارکنوں اور پارٹی کے سینئر لیڈروں سے خطاب کیا-