ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات حکومت کو ’لو جہاد‘ قانون پر سپریم کورٹ سے بڑا دھچکا، ہائی کورٹ کے فیصلے پر پابندی لگانے سے انکار

گجرات حکومت کو ’لو جہاد‘ قانون پر سپریم کورٹ سے بڑا دھچکا، ہائی کورٹ کے فیصلے پر پابندی لگانے سے انکار

Mon, 14 Feb 2022 22:46:20    S.O. News Service

نئی دہلی،14؍ فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) لو جہاد ایکٹ پر راحت کی امید لگانے والی گجرات حکومت کو سپریم کورٹ نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم کی بعض دفعات پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کی درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ جب تک یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ لڑکی کو لالچ دے کر پھنسایا گیا ہے، تب تک لو جہاد ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی۔دراصل گزشتہ سال اگست میں گجرات ہائی کورٹ نے لو جہاد مخالف قانون کو لے کر ایک اہم فیصلہ سنایا تھا۔ ہائی کورٹ نے لو جہاد ایکٹ کی بعض دفعہ کے نفاذ پر روک لگا دی تھی۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ جمعیت علمائے ہند کی عرضی پر دیا تھا۔ جمعیت نے اس قانون پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ گجرات حکومت نے مبینہ لو جہاد کو روکنے کے لیے 15 جون 2021 کو گجرات مذہبی آزادی (ترمیمی) ایکٹ 2021 نافذ کیا تھا۔

گجرات ہائی کورٹ نے حکم میں کہا کہ اس قانون کی دفعات ان لوگوں پر نافذنہیں ہو سکتی جن کے بین مذہبی شادی میں زبردستی یا دھوکہ دہی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ جب تک یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ لڑکی کو لالچ دے کرپھنسایا گیا ہے، تب تک کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی جانی چاہیے۔


Share: