احمدآباد،10؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) گجرات میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملوں کے درمیان ایک ڈاکٹر کے بھی کورونا پازیٹو ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ اس خبر نے ڈاکٹر طبقہ کے ساتھ ساتھ لوگوں میں بھی دہشت پیدا کر دی ہے کیونکہ یہ ڈاکٹر مشتبہ مریضوں سے کورونا ٹیسٹ کے لیے سیمپل لینے کا کام کرتا تھا اور انتہائی احتیاط کے ساتھ یہ عمل پورا کیا جاتا تھا۔ گجرات میں محکمہ صحت کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر کے کورونا پازیٹو ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ پرنسپل سکریٹری جینتی روی کا کہنا ہے کہ احمد کے ایک ڈاکٹر میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے جو کہ کورونا ٹیسٹ کے لیے نمونے لیا کرتے تھے۔
چونکہ ہندوستان میں درجنوں ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کے کورونا پازیٹو ہونے کی خبریں اب تک سامنے آ چکی ہیں اور مدھیہ پردیش کے اندور میں تو کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر شتروگھن کے کورونا پازیٹو ہونے اور پھر ان کی موت کی خبر بھی منظر عام پر آ چکی ہے، اس لیے ڈاکٹر طبقہ میں خوف لازمی امر ہے۔ ایسے ماحول میں بہتر احتیاطی اقدام اور بہترین حفاظتی ایکوئپمنٹ کی سخت ضرورت جس کا مطالبہ کانگریس صدر سونیا گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی وغیرہ بار بار مرکزی حکومت سے کر رہے ہیں۔
بہر حال، گجرات میں گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 46 نئے معاملے سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد 308 پہنچ گئی ہے۔ ریاست کے محکمہ صحت پرنسپل سکریٹری جینتی روی کا کہنا ہے کہ 46 نئے پازیٹو معاملوں میں سے 17 کا تعلق وڈودرا سے ہے۔ اس کے علاوہ احمد آباد سے 11 معاملے، راجکوٹ سے 5 معاملے، بھروچ سے 4 معاملے، بھاؤ نگر سے 4 معاملے، پاٹل اور کَچھ سے 2-2 معاملے، جب کہ گاندھی نگر سے ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔