نئی دہلی، یکم اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) گجرات کے بھاونگر میں اتوار کو پولیس اور کسانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔کسان بھاونگر ضلع کے ایک گاؤں میں مجوزہ کول پلانٹ کی مخالفت میں مظاہرہ کر رہے تھے۔اس جھڑپ میں بہت سے لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔کسانوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے خواتین اور بچوں سمیت مظاہرین کے ساتھ تھے۔واقعہ میں ابھی تک پانچ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔غور طلب ہے کہ گجرات پاور کارپوریشن لمیٹڈ نے تقریبا دو دہائی پہلے لگنائٹ پلانٹ قائم کرنے کے لئے بھاونگر میں گھوگھا تالک کے 12 دیہات میں تقریبا 1,250 کسانوں کی3,377 ایکڑ زمین حاصل کی تھی۔زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں۔تمام زخمیوں کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔بھاونگر کے پولس سپرنٹنڈنٹ دیپانکر ترویدی نے بتایا کہ کمپنی نے زمین کا قبضہ لینے کے لئے پولیس سیکورٹی مانگی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تقریبا 50 افراد کو حراست میں لیا ہے اور باڈی گاؤں کے قریب مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے ساتھ ہی لاٹھی چارج بھی کیا گیا ہے۔وہیں ایک مقامی کسان لیڈر نریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ کسان پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے لیکن پولیس نے خواتین اور بچوں سمیت مظاہرین سے بدسلوکی کی اور ان پر لاٹھی چارج بھی کیا۔