نئی دہلی،30/ مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات کے نتائج آنے کے بعد کانگریس صدر عہدے سے استعفیٰ دینے کی بات پر راہل گاندھی اب بھی اڑے ہیں۔کانگریس لیڈر انہیں استعفی دینے کا فیصلہ واپس لینے کے لئے منا رہے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ پارٹی میں تبدیلی کرنا ہوگا۔میں استعفی واپس لینے کا ارادہ ترک نہیں کروں گا۔دہلی پردیش کانگریس صدر شیلا دکشت نے کہا کہ ہم ان کا استعفی بالکل بھی منظور نہیں کریں گے۔راہل گاندھی نے اچھا کام کیا ہے۔ہار جیت چلتی رہتی ہیں، پہلے بھی کانگریس کی ہار ہوئی ہے۔لڑنا ضروری ہے۔ہار ہوئی ہے اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔غلطیوں کو درست کیا جائے گا۔ہار اندرا جی کے وقت بھی ہوئی تھی۔ استعفی پر اڑے راہل گاندھی سے حلیف پارٹیاں ڈی ایم اور پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں نے ان سے اپنا فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی۔منگل کو اس دوران، کانگریس میں اجلاسوں اور ملاقاتوں کا دور بھی جاری رہا۔پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے راہل سے ملاقات کرکے ان کو سمجھانے کی کوشش کی۔ کئی دوسرے لیڈر بھی راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ذرائع کے مطابق پرینکا، کانگریس کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے سی وینو گوپال، پارٹی کے مرکزی ترجمان رندیپ سرجیوالا نے گاندھی سے ملاقات کی۔کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گاندھی استعفی دینے کے اپنے موقف پر اڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ پارٹی کے لیڈر انہیں منانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ یہ بھی معلومات سامنے آئی ہے کہ بدھ کو کچھ علاقوں میں کانگریس کی مجلس عاملہ کی میٹنگ ہے جن میں قرارداد منظور کر کے راہل گاندھی سے یہ اپیل کی جا سکتی ہے کہ وہ صدر کے عہدے پر بنے رہیں۔ ڈی ایم کے چیئرمین ایم کے اسٹالن نے بھی کانگریس صدر راہل گاندھی سے اپنے عہدے سے نہیں ہٹنا کی درخواست کی اور کہا کہ ان کی پارٹی گرچہ عام انتخابات ہار گئی لیکن راہل نے لوگوں کا دل جیتا ہے۔