ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ہبلی:ارکاوتی ڈی نوٹی فکشن معاملے میں وزیراعلیٰ راست طورپر شامل ہونے کا الزام :جگدیش شٹر

ہبلی:ارکاوتی ڈی نوٹی فکشن معاملے میں وزیراعلیٰ راست طورپر شامل ہونے کا الزام :جگدیش شٹر

Thu, 24 Aug 2017 20:22:35    S.O. News Service

ہبلی:24/اگست (ایس اؤنیوز)ارکاوتی ڈی نوٹی فکیشن معاملے میں وزیر اعلیٰ سدرامیا شامل نہیں ہیں تو کیمپیا کمیشن کی رپورٹ عوامی طورپر ظاہرکریں اور اس معاملے میں میں بھی ایک گواہ کے طور پر اپنا بیان درج کرایا ہے، معاملے کی صحیح جانچ نہ کرتے ہوئے اپنی من مانی رپورٹ تیار کرنے کا حزبِ مخالف رہنما جگد یش شٹر نے خیال ظاہر کیا۔

ہبلی میں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ شٹر نے کہاکہ سی آئی ڈی ، اے سی بی جیسے کئی ایک اداروں کو وزیراعلیٰ اپنے ماتحت لے رکھے ہیں، اس طرح اپنے ماتحت اداروں کو استعمال کرتے ہوئے خبروں کو پھیلا رہے ہیں، انہوں نے کہاکہ ارکاوتی معاملے میں تمام گواہوں سے ٹھیک طرح پوچھ تاچھ نہیں کی گئی ہے، اس کے بجائے اپنے من پسندگواہوں سے پوچھ تاچھ کرکے رپورٹ تیار کرنےکا الزام لگاتے ہوئے شٹر نے کہاکہ ارکاوتی معاملے میں راست طورپر  وزیر اعلیٰ کا ہاتھ  ہے ، اگررپورٹ سدرامیا کے حق میں پیش ہوتی ہے تو بی جے پی قانونی جدوجہد کرنے کی بات کہی۔

ڈی وائی ایس پی ایم کے گنپتی خود کشی معاملے میں حالیہ نئے بدلاؤ پر اظہار خیال کرتے ہوئے شٹر نے کہاکہ معاملے کو نیا رخ ملا ہے ،میں نےاس سلسلے میں پہلے ہی شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاملے میں بنگلورو ترقی اور شہری منصوبہ بندی کے وزیر کے جے جارج کو بچانے کامقصدلے کر کچھ اہم ثبوتوں کو مٹانے کا ودھان سبھا میں حزبِ مخالف رہنما جگدیش شٹر نے الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈی وائی ایس پی معاملے کو سی ایم اور وزراء منصوبہ بند طریقے سے بند کرنے کی کوشش کررہے ہیں، سرکار کے ماتحت ادارے سی آئی ڈی کاغلط استعمال کرتے ہوئے یہ کام کیاجارہاہے، معاملہ کی سنوائی جاری رہتے موبائیل میں موجود اطلاعات کیسے ڈلیٹ ہوگئے؟کے جے جارج اس معاملے میں راست شامل ہیں انہوں نے ہی ثبوتوں کو مٹانے کی بات کہی۔ معاملے کو دیکھتے ہوئے جارج استعفیٰ دیں اور وزیرا علیٰ شفاف حکومت کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں استعفیٰ قبول کرکے معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کریں۔ حزبِ مخالف رہنما شٹر نے معاملے کی سچائی جاننے کے لئے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا۔


Share: