میڈیامنفی پروپیگنڈہ سے بازرہے،حکومت کے دعوے پرکسان تنظیموں کاپلٹ وار،16 کسان لاپتہ
نئی دہلی14؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کی مختلف سرحدوں پر75 دن سے زیادہ عرصہ سے کسانوں کی تحریک جاری ہے۔ ادھر ہفتہ کو کسان قائدین نے کہاہے کہ کسانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ یہیں رہیں گے۔ تحریک نہیں رکے گی۔
کسان تنظیموں نے یہ بات دہلی یوپی غازی پوربارڈر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔کسان رہنماؤں نے دعویٰ کیاہے کہ دہلی پولیس نے 14/ ایف آئی آر کے سلسلے میں 122 کسانوں کو گرفتار کیا ہے۔ متحدہ کسان مورچہ گرفتار کسانوں کو قانونی اور مالی مدد فراہم کرے گا۔زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے متحدہ کسان مورچہ کا الزام ہے کہ کسانوں کو جعلی مقدمات میں پھنسایا جارہاہے، انہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ 26 جنوری کو ٹریکٹر پریڈ میں شریک 16 کسان ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ یہ تحریک پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ انہوں نے الزام لگایاہے کہ کچھ اخبارات اس کے بالکل برعکس لکھتے ہیں۔ اگر ان میں بہتری نہیں آئی تو ہم کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ مشترکہ کسان مورچہ مکمل طور پر متحدہے۔ 23 فروری تک طے شدہ پروگرام ہیں، جس پر ہم کام کر رہے ہیں۔ تحریک پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گی، ہم اپنی حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ کسانوں کو حوصلہ شکنی کی ضرورت نہیں ہے۔کسان رہنماؤں نے سرکار پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔ کسان رہنما بلبیر سنگھ راجیوال نے کہاہے کہ حکومت ہند جھوٹ بول کر پورے ملک کو گمراہ کررہی ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہمیں ان قوانین میں کالا کیا ہے نہیں بتایا جارہا ہے۔ حکومت سے 11 بار ملاقات کے بعد ہر ایک نے 3 بار بتایا ہے کہ ان میں کالی شق کیاہے۔