ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ہوناور تشدد کے بعد دونوں فرقوں میں آپسی عدم اعتماد ، بے چینی ، اضطراب: ماہی گیر صنعت پر سیاہ بادل

ہوناور تشدد کے بعد دونوں فرقوں میں آپسی عدم اعتماد ، بے چینی ، اضطراب: ماہی گیر صنعت پر سیاہ بادل

Thu, 14 Dec 2017 19:08:43    S.O. News Service

ہوناور:14/ دسمبر(ایس اؤنیوز) روایتی طورپر طویل عرصہ سے ایک فرقہ کے ماہی گیر بوٹوں پر کام کرنے والے دوسرے فرقہ کے مزدوروں میں پیدا ہوئی بے اعتماد ی کی وجہ سے وہ تمام ان کے بوٹوں پر کام کرنے سے انکار کررہے ہیں تو دوسری طرف عورتوں کا کہنا ہے کہ ہم کیوں ان کی کشتیوں کے مچھلیوں کولیں۔

ہوناورشہر کے حالات تشدد کے بعد معمول پر لوٹنے کے امکانات کے دوران ہی ماہی گیروں کی بوٹوں پر مزدوری اور مچھلیوں کی خرید و فروخت کو لے کر ایک نیا مسئلہ پیدا ہونے سے فرقہ وارانہ فسادات کیسے اور کتنے مشکل مسائل کو جنم دیتے ہیں اس کی یہ ایک تازہ مثال ہے۔ اور فسادات کے سیاہ بادلوں کے گہرے اثرات کاسایہ ماہی گیری پردیکھا جاسکتاہے۔

ہوناور میں مسلمان اور ہندو نسل در نسل بوٹ پر ماہی گیری کرتے رہے ہیں۔ اگر وہ ہیں تو یہ ہیں ، یہ نہیں تو وہ بھی نہیں کے مصداق ذات، دھرم کی تفریق کئے بغیر ماہی گیری سے ایک بہترین روابط اور تعلقات تھے۔ مسلم ملکیت کے بوٹوں پر ہندو ہی مزدور ،بوٹ کے ڈرائیور ، مچھلیوں کا رخ پہچاننے والے ، چار پانچ کے سوا تمام لوگ ہندو ہی ہوا کرتےہیں۔ یہاں عقیدے سے زیادہ کام اہم ہوتاتھا، لیکن موجودہ حالات نے دھرم کے نام پر ماہی گیری پر برے اثرات پیدا کئے ہیں۔ 5دسمبر کی شام ہوئےفرقہ وارانہ فسادات نے دونوں دھرم والوں کے درمیان آپسی عدم اعتماد کا شکا رہیں، جس کے نتیجے میں ماہی گیری صنعت کوغیر یقینی صورت حال کا سامناہے۔

ہوناور میں پرشین اور ٹرال بوٹ کی تعداد 173ہے، جس میں 110ہندو، 50مسلم اور 13کرسچن مالک ہیں۔ 6دسمبر سے ہی ماہی گیر ی بند ہے۔ گرچہ ظاہر ی طورپر حالات معمول طورپر لوٹ رہے ہیں لیکن عدم اعتماد کی وجہ سے ماحول اندرونی طورپر کشیدہ محسوس ہوتاہے۔ ایک اطلاع کے مطابق ہوناور بندرگاہ اور ٹونکا میں لنگر ڈالے ہندو ملکیت کے بوٹ سمندر میں اترنےکی تیار ی میں ہیں تو مسلم ملکیت کی بوٹیں اب بھی بے چینی اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ بوٹ میں کام کرنے والے مزدور پس و پیش میں ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ آپس میں بات چیت نہیں ہونےکی وجہ سے مسئلہ جوں کاتوں باقی ہے ۔ اسی دوران کہاجارہاہے کہ صاحب ! پیٹ کا درد کون سنے گا؟ آخری لمحات میں سبھی سمندر میں اترنے کے لئے تیار ہونگے ۔ عدم اعتماد کی وجہ سے ماہی گیری صنعت کو نقصان پہنچ رہاہےان حالات میں ہوناور بوٹ یونین کی طرف سے لیا جانے والا فیصلہ اہم ماناجارہاہے۔

سمندر میں مچھلی کا شکار کرکے لانے والی کشتیوں کی مچھلیوں کو کنارے لانے والی عورتیں بھی حالات سے متاثر نظر آرہی ہیں،پریش میستا کی ہلاکت نے ایک خاص فرقہ کو مشتبہ بنا دیا ہے جس کی بنا پر عورتیں بھی بوٹوں کی مچھلیوں کو اٹھانے سے انکار کرنے کی بات کہہ رہی ہیں۔ سنجیدہ افراد کا ماننا ہے کہ دونوں فرقوں میں آپسی اعتماد کو بحال کرنےکا کام کریں گے تو حالات سدھر سکتےہیں۔


Share: