ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہوناور میں پریش میستا کی موت پر بی جے پی کے بعد اب کانگریس کی طرف سے احتجاج پر پریش کے والد کملاکر میستا ناخوش؛

ہوناور میں پریش میستا کی موت پر بی جے پی کے بعد اب کانگریس کی طرف سے احتجاج پر پریش کے والد کملاکر میستا ناخوش؛

Fri, 13 Jul 2018 20:06:59    S.O. News Service

بھٹکل 13؍جولائی (ایس او نیوز) گذشتہ سال دسمبر میں بھٹکل کے پڑوسی تعلقہ  ہوناور کے ایک نوجوان پریش میستا کی موت کے بعد بی جے پی نے جس طرح پرزور احتجاج کرتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی تھی اور ریاستی کانگریس حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ  اس نوجوان کی موت کی چھان بین کی ذمہ داری اگر مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کو سونپی گئی  تو اسے صرف سات دنوں میں حل کردیا جائے گا تو ریاست کی سدارامیا حکومت  نے بھی فوری اُن کے مطالبے کو منظور کرتے ہوئے معاملہ سی بی آئی کے حوالے کردیا تھا۔

واقعے پر  مہلوک پریش میستا کے گھروالوں نے  بی جے پی  کا ساتھ دیتے ہوئے راست الزام عائد کیا تھا کہ اس نوجوان کی موت کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے ۔ مگر اب معاملہ سی بی آئی کے حوالے کرنے کے سات ماہ بعد بھی سی بی آئی نے معاملہ حل نہیں کیا تو نہ صرف بی جے پی کی طرف سے خاموشی چھائی ہوئی  ہے بلکہ پریش میستا کے گھروالےبھی بی جے پی کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس کو اس معاملے میں ایک طرح سے دخل  نہ دینے کی بات کی ہے۔

پریش میستا کی ہلاکت کے سلسلے میں ہورہی سست رفتار تحقیقات کے خلاف کانگریس پارٹی کی جانب سے جب بھوک ہڑتال کے ساتھ احتجاج شروع کیا گیا تو  پریش کے والد کملاکر میستا نے کانگریس پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا  کہ یہ عوام کا نظریہ بدلنے کی ایک کوشش ہے۔

کملاکر نے کہا کہ جس وقت پریش کی موت واقع ہوئی تھی تب کانگریس پارٹی نے اسے ایک فطری موت قرار دیا تھا۔احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرواتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ، کانگریسی حکومت، وزیر داخلہ، مقامی رکن اسمبلی شاردا شیٹی یا پھر پارٹی کے کسی بھی لیڈر نے اس وقت انصاف دلانے یا مجرموں کو سزادلانے کی کوئی بھی کوشش نہیں کی تھی۔اس وقت انتخابات میں نقصان ہونے کا اندیشہ دیکھ کر اقلیتوں کو لبھانے کے لئے اس واقعے کے تعلق سے خاموشی اختیار کرلی گئی تھی۔کملاکر میستا کے مطابق اُس وقت ان کے سامنے گڑ گڑانے کے بعد بھی کوئی فائدہ نہ ہونے پر جب عوام کی طرف سے  احتجاج بڑھنے لگا تو یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپا گیا تھا۔ 

بھلے ہی سی بی آئی کو معاملہ سونپ کر اب سات ماہ کا عرصہ گذرچکا ہو، مگرکملا کر میستا کا کہنا ہے کہ اب اس معاملے کی تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور کانگریس کے لوگ تحقیقات کی سمت بدلنے کی نیت سے بھوک ہڑتا ل اور ستیہ گرہ کے ذریعے سازش رچنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کملاکر میستا  نے کانگریسیوں کامخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ واردات ہوئی تھی تو اس وقت بھی ریاست میں تم لوگوں کی حکومت تھی۔ اور اس وقت بھی تمہاری پارٹی کی مخلوط حکومت ہے۔کملاکر نے سوال کیا کہ اپنی حکومت پردباؤ ڈالتے ہوئے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو عام کیوں نہیں کرواتے۔ اسے چھوڑ کر بے فائدہ احتجاج کرکے خود اپنی ہی بے عزتی کروانے کا کام کیوں کررہے ہو۔ میستا کے مطابق سی بی آئی اور الیکشن کمیشن خود مختار ادارے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اتنی چھوٹی سے بات سے بھی تم لوگ ناواقف ہو۔

خیال رہے کہ ہوناور میں پریش میستا کی موت کے بعد کئی مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرتے ہوئے  کئی ماہ تک اُنہیں جیلوں میں بند رکھا گیا تھا ان میں ایک کانگریسی لیڈر بھی شامل تھا۔ میستا کی موت کے بعد پورے ساحلی کرناٹکا میں ایک خاص فرقہ کو  بھڑکاتے ہوئے ایک مخصوص پارٹی اُن کے ووٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی تھی۔  اب یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ کملاکر میستا کے اس تازہ بیان کے سامنے آنے کے بعد کانگریس  کیا اپنا احتجاج جاری رکھے گی یا پھرکوئی دوسرا راستہ اپنائے گی۔


Share: