ہوناور، 2؍ فرروی (ایس او نیوز) ہوناور کاسرکوڈ میں نجی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف مقامی ماہی گیروں اور عوام کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ پچھلے کچھ عرصے سے چل رہا ہے، مگر اس کے باوجود اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے ٹھیکیدار کمپنی نے پولیس کے تحفظ میں سمندری کنارے سے سڑک کی تعمیر شروع کردی ہے۔
خیال رہے کہ کاسرکوڈ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 500 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے کمرشیل پورٹ کے منصوبہ کو مرکزی حکومت کی جانب سے تقریباً 5 سال قبل ہی ہری جھنڈی دکھائی گئی تھی۔ مگر مقامی ماہی گیروں نے اس کی مخالفت شروع کردی تھی۔ پھر جب گزشتہ سال اس منصوبے کے لئے تعمیراتی سامان اور مشینیں لانے کے لئے ٹونکا کی عوامی سڑک استعمال ہونے لگی تو عوامی سطح پر اس کی مخالفت شروع ہوگئی،جس کے بعد تعمیراتی کام کچھ عرصہ کے لئے روک دیا گیا تھا۔
اب بندرگاہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کاسرگوڈ سمندر کے ساحلی کنارے سے پولیس کے تحفظ میں ایک نئی سڑک تعمیر کی جارہی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ تحصیلدار کی معرفت مقامی لوگوں کو تاکید کی گئی ہے کہ انہیں اگر اس کام پر کسی قسم کا اعتراض ہے تو وہ لوگ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں مگر کسی بھی قیمت پر انہیں کام رکوانے کے لئے احتجاجی مظاہرے کرنے یا پھر رکاوٹیں پیدا کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب سڑک کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع ہوا تو مقامی لوگوں نے علامتی احتجاج کرتے ہوئے تحصیلدار کے سامنے مجوزہ بندرگاہ کی زمین کے تعلق سے دستاویزات پیش کرتے ہوئے اعتراضات جتائے۔
مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ سمندری کنارے سے سڑک تعمیر کرنے کی وجہ سے ان کی ماہی گیری متاثر ہوگی اور نسل در نسل چل رہے اس پیشے سے وہ محروم ہوجائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ساحلی پٹی پر اونچی سڑک تعمیر کرنے کے لئے چٹانوں کے بڑے بڑے ٹکڑوں سے دیوار بنائی جارہی ہے جس کی وجہ سے وہ روایتی ماہی گیری کے لئے اپنی چھوٹی چھوٹی کشتیاں سمندر میں اتار نہیں پائیں گے۔ بریک واٹر تعمیر کرنے کی وجہ سے سمندر کی طرف ماہی گیری کے لئے جانا آنا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بندرگاہ کی تعمیر کے نام پر ماہی گیروں کو آہستہ آہستہ بے دخل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
پرشین بوٹ مالکان تنظیم کے صدر حمزہ پٹیل نے کہا:" پبلک پرائیویٹ بندرگاہ کی تعمیر کے لئے حکومت نے کمپنی کو 93ایکڑ زمین منظور کی ہے۔ اگر افسران یہ تحریری تیقن دیتے ہیں کہ اس زمین کے علاوہ مزید کوئی بھی زمین تحویل میں نہیں لی جائے گی اور مقامی باشندوں کو یہاں سے بے دخل نہیں کیا جائے گا تو پھر ہم لوگ بھی بندرگاہ کی تعمیر پر اعتراض نہیں کریں گے۔
پورٹ کنزرویٹر وی آر نائک کا کہنا ہے ساحلی علاقے میں ڈریجنگ کرنے اور بریک واٹرس تعمیر کرنے کی مانگ ماہی گیروں کی طرف سے بھی کی گئی تھی۔ اس کام کے لئے بڑی بھاری مشینیں اور چٹانوں کے ٹکڑوں کو تعمراتی مقام پر لانا ضروری ہوتا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر کی موجودگی میں منعقدہ میٹنگ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گاوں کے اندر سے جو سڑک جاتی ہے اگر اس کو استعمال کریں تو عوام کے لئے مشکلات کھڑی ہوتی ہیں۔ اس لئے فیصلہ کیا گیا تھا کہ سمندری کنارے سے نئی سڑک تعمیر کی جائے۔ اسی کے مطابق اب کمپنی نے تعمیراتی کام شروع کیا ہے۔