ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یو پی ،گجرات ،تملناڈو میں بی جے پی کے نئے حمایتی

یو پی ،گجرات ،تملناڈو میں بی جے پی کے نئے حمایتی

Sun, 02 Sep 2018 19:50:24    S.O. News Service

نئی دہلی،2؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) تملناڈو،گجرات اور یو پی کو کئی مدد گار مل گئے ۔ خاندانی سیاسی جھگڑوں کے سبب ایسا ممکن ہوا۔ دروڈ منیتر کڑ گم کے بانی کرونا ندی کی موت کے بعد پارٹی پر قبضہ کے لئے ان کے بڑے بیٹے ایم کے الگیری اور اس سے چھوتے بیٹے اسٹالن میں جھگڑا ہوا۔ اسٹالن نے پارٹی عہدیداروں کی میٹنگ بلائی۔ جس میں اسٹالن کو درمک کا صدر منتخب کر لیا گیا ۔ اس میں ان کی سوتیلی بہن کنی موزی نے مد دکی لیکن ان کی ایک اور بہن سیلوی بڑے بھائی ایم کے الگیری کے ساتھ ہے ۔ الگیری اپنی الگ پارٹی بنا رہے ہیں ۔

تملناڈو کے مدورے علاقے اور اس کے آس پاس کے علاقے میں ان کا اچھا اثر ہے ۔ درمک لیڈروں کا کہنا ہے کہ اسٹالن کی کانگریس پارٹی کیس اتھ تال میل کی بات چیت چل رہی ہے ۔ وہ کانگریس کیس اتھ مل کر لوک سباھ الیکشن لڑ سکتے ہیں اور ان کے بڑے بھای ایم کے الگیری بی جے پی کے ساتھ تال میل کر سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں تملناڈو کے سینئر صھافی وینکٹ کا کہنا ہے کہ الگیری صرف سودے بازی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی اسٹالن کا پیغام بھجوایا ہے کہ اگر وہ پارٹیمیں بلاتے ہیں ، عزت اور عہدہ دیتے ہیں تو واپس پارٹی میں آ جاؤں گا۔، ابھی یہ سب چلے گا۔ ویسے تو آنے ولاے لوک سبھا الیکشن میں زیادہ سیٹیں ڈی ایم کے کو ہی ملنے کے امکانات ہیں اس لئے بھی الگیری کی مجبوری چھوٹے بھائی اسٹالن کو صدرتسلیم کر کے پارٹی میں بنے رہنے کی ہوگی ۔

ادھر گجرات کے سابق وزیر اعلی شنکر سنگھ واگھیلا راجیہ سبھا الیکشن کے وقت کانگریس سے الگ ہو گئے تھے ۔ ان کا بیٹا اور سابق ممبر اسمبلی مہیندر واگھیلا اور سمدھی بلونت سنگھ راج پوت کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو گئے ۔ واگھیلا اب کانگریس اور بی جے پی کے متبادل کی تلاش میں غیر بی جے پی،غیر کانگریسی لیڈروں سے رائے بات کر رہے ہیں ۔ لیکن ان کے بیٹے اور سمدھی کے بی جے پی میں چلنے جانے سے بی جے پی کو تو فائدہ ہوگا ۔

ادھریو پی میں ایس ی سے الگ ہو کر شیو پال یادو نے اپنی نائی پارٹی سماج وادی سیکولرمورچہ کی تشکیل کر لی ہے ۔ جس میں وہ اپنے بھتیجے اکھلیش یادو اور ان کی پارٹی ایس پی سے ناراج یادو ور مسلمان لیڈروں کو لائیں گے ۔ ان کوآنے والے اسمبلی لوک سبھا الیکشن میں سماج وادی پارٹی ( ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی کے امیدواروں کے خلاف ووٹ کاٹنے کے لئے کھڑا کریں گے ۔ یہ کر کی بی جے پی کو فائدہ پہنچائیں گے ۔ اس کے بارے میں سینئر صحافی وششٹھ نارائن کا کہنا ہے کہ شیو پال یادو کی پارٹی ووٹ کٹوا پارٹی ہوگی جو ایس پی اور بی ایس پی کے ووٹ کاٹ کار بی جے پی کو فائدہ پہنچائیں گی۔


Share: