نئی دہلی،30؍نومبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) نئے زرعی قوانین پر دہلی کی سرحد پر موجود کسان تنظیموں نے حکومت کی بات چیت کی اپیل ٹھکرا دی ہے اور یکم دسمبر سے تمام ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے -
مخالفت کررہی کسان تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم اکھل بھارتیہ کسان سنگھرش کوآرڈی نیشن کمیٹی نے آج یہاں ایک بیان میں کہاکہ حکومت کو اعلیٰ سطح پر کسانوں سے بغیرکسی شرط کے بات چیت کرنی چاہئے - کمیٹی نے کہاکہ کسانوں نے یکم دسمبر سے تمام ریاستوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا ہے - کسان تنظیموں نے اتوار کو سندھو بارڈر پر پریس کانفرنس میں کہا کہ شرطوں کے ساتھ کسی بھی صورت میں بات چیت نہیں ہوگی- ان کے پاس 4 مہینوں کا راشن سمیت سارے انتظام ہیں -آنے والے دنوں میں دہلی کے5/اہم آنے جانے والے راستوں کو پوری طرح سے جام کیا جائے گا- پنجاب میں کسان گزشتہ 2مہینے سے جدوجہد کررہے ہیں اور گزشتہ 4 دنوں سے ’دہلی چلو‘ مہم کے تحت کسان مختلف راستوں سے دہلی کی طرف بڑھ رہے ہیں -
واضح رہے کہ ہفتہ کو دیر شام مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کسانوں سے بات چیت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ3دسمبر کو زراعت و کسانوں کی فلاح وبہبود کے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کسان تنظیموں کے ساتھ میٹنگ کریں گے -بیان میں کہا گیا کسان متحد ہیں اور ایک آواز میں مرکزی حکومت سے کسان مخالف، عوام مخالف قوانین اور بجلی بل 2020کی واپسی کی مانگ کررہے ہیں - کسان پُرامن طریقہ سے عزم کے ساتھ دہلی پہنچے ہیں اور اپنی مانگ حاصل کرنے کے لئے پُرعزم ہیں - پنجاب اور ہریانہ سے بڑی تعداد میں کسان سندھو اور ٹکری بارڈر پہنچ رہے ہیں - اتراکھنڈ اور اترپردیش کے کسان بھی سندھو بارڈر پر جمع ہورہے ہیں -کسانوں کا الزام ہے کہ حکومت نے ان کے مطالبات اور سوالات پر کوئی توجہ نہیں دی ہے - حکومت کے طریقہ کار نے عدم اعتماد کی کمی پیدا کی ہے - کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کسانوں کے مطالبات پر سنجیدہ ہے تو اسے شرائط لگانی بند کردینی چاہئیں -