بھٹکل:5/اگست(ایس او نیوز) بدھ کی شام سمندرمیں ماہی گیری کے دوران بوٹ اُلٹ جانے کے نتیجے میں سات ماہی گیروں نے آٹھ گھنٹوں تک مسلسل سمندری موجوں سے لڑتے ہوئے دوسری ایک بوٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے، جس کے بعد جمعرات علی الصباح اُنہیں بے حد زخمی حالت میں سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ میڈیا کے ذریعے معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیر برائے ماہی گیری پرمود مدھوراج آج بھٹکل پہنچے اور ساتوں ماہی گیروں سے ملاقات کرتے ہوئے سمندر میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے ماہی گیر منجوناتھ کھاروی کےگھروالوں سے بھی تعزیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے یقین دلایا کہ منجوناتھ کھاروی کے اہل خانہ کو حکومت کی طرف سےمعائوضہ دلایاجائے گا۔
جمعہ کی شام سرکاری اسپتال میں زیر علاج متاثرہ ماہی گیر وں سے ملاقات کر کےدلاسہ دینے کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے بتایا کہ مہلوک کی نعش کا ابھی تک پتہ نہ چلنے کی وجہ سے معاوضہ کا اعلان کرنے کے لئے قانونی رکاوٹ کا سامنا ہوسکتا ہے، اس لئے معاوضہ کے لئے متبادل کارروائی کی جائے گی ، انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ایک دو دن میں نعش مل جائے گی ۔
آٹھ گھنٹوں سے زائد سمندر میں تیر کراپنی موت کو شکست دینے والے ماہی گیروں کے تعلق سے انہوں نے بتایا کہ جن ماہی گیروں نے نئی زندگی پائی ہے واقعی اُن کی ہمت وحوصلہ کی داد دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیر ہمیشہ بھگوان پر زیادہ بھروسہ رکھنے والے ہوتے ہیں، اس لئے بھگوان ہی ان ماہی گیروں کی حفاظت کرتا ہے۔ ماہی گیروں کو بچانےکے لئے دوسرے ماہی گیروں نے جس طرح اپنی بوٹ میں انہیں لیا اور فوری کنارے پہنچاکر اسپتال جانے کا بندوبست کیا، وہ بھیانسانیت کی عمدہ مثال ہے، انہوں نے کہا کہ بڑی بوٹوں میں موجود جی پی ایس، وائر لیس جیسے آلاات گلنیٹ بوٹوں میں نصب نہ ہونے کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہورہا ہے، بوٹوں میں کام کرنے والے ماہی گیر جاکٹ جیسے آلات کا استعمال کریں، تاکہ وہ ناگہانی حادثات سے اپنی حفاظت کرسکیں۔ ساحلی تحفظ دستہ کے بوٹ 4ناٹیکل میل سے دور نہیں جاسکتے، لیکن ماہی گیر اس سے بھی دور جاتے ہیں، جسکی وجہ سے ساحلی دستہ سےان ماہی گیروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہاہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ساحلی دستہ کی خدمات کو وسعت دینے کے سلسلے میں حکومت غوروفکرکررہی ہے۔ اس موقع پر کوسٹل گارڈ کمانڈر مکیش شرما، ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، تحصیلدار وی این باڈکر، ضلع یوتھ اینڈ اسپورٹس افسر گایتری ، ماہی گیر لیڈر وسنت کھاروی ، نارائن کھاروی، تمپا کھاروی، رتناکر کھاروی، گووند کھاروی ، روی کھاروی وغیرہ موجود تھے ۔